رسائی کے لنکس

”شام کا باشندہ پاکستانیوں کے لیے روزگار کا ذریعہ“

  • حسن سید

”شام کا باشندہ پاکستانیوں کے لیے روزگار کا ذریعہ“

”شام کا باشندہ پاکستانیوں کے لیے روزگار کا ذریعہ“

معاذ البرماوی وہ شامی نژاد پاکستانی شہری ہیں جو پاکستان میں بطور تاجر اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں اور اقتصادی بد حالی سے پریشان پاکستانیوں کو ان کی صلاحیت کے اعتبار سے بیرون ملک برآمد کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد سے اندرون ملک اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر جہاں بڑے جانی اور مالی نقصان کا سبب بنی وہیں اس نے پاکستان سے افرادی قوت کی درآمد کو بھی بری طرح متاثر کیا۔

دنیا بھر میں شک کی نگاہ سے دیکھے جانے والے پاکستانیوں کے لیے روزگار کے دروازے بند ہوتے چلے گئے جب کہ عدم تحفظ کے احساس نے غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ کئی پاکستانیوں کو بھی وطن چھوڑنے پر مجبور کیا لیکن ان تمام نا مسائد حالات کے باوجود معاذ البرماوی وہ شامی نژاد پاکستانی شہری ہیں جو پاکستان میں بطور تاجر اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں اور اقتصادی بد حالی سے پریشان پاکستانیوں کو ان کی صلاحیت کے اعتبار سے بیرون ملک برآمد کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

44سالہ البرماوی کا کہنا ہے کہ انھیں انسانی صلاحیت کے پرکھنے کا فن اپنے والد یوسف البرماوی سے ملا جو 1970ء کی دہائی میں شام سے پاکستان کی افرادی قوت حاصل کر نے آئے اور یوں تعمیرات، تیل کی تلاش ، صنعت اور زرعی شعبوں سے وابستہ ہنر مند افرادی قوت وسطی ایشیا روز گار دلوانے لے گئے۔

یہی کام بعد میں ان کے بیٹے نے سنبھالا جو آج تک جاری ہے اور البرماوی کے مطابق ان کی چنی ہوئی افرادی قوت دنیا بھر میں جنوبی کوریا سے مراکش تک پھیلی ہوئی ہے۔ گذشتہ 30سالوں سے پاکستان میں مقیم معاذ البرماوی پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات، بد نامی اور اقتصادی بحران کے باوجود خوشحال ہیں اور افراد ی قوت کی گرتی ہوئی برآمد کو سنبھالا دینے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جو ایک اندازے کے مطابق قومی خزانے کو سالانہ چھ ارب ڈالر دیتی تھی۔

معاذ کہتے ہیں ”ہمارا مقصد یہ ہے کہ پاکستانیوں کو بیرون ملک پرکشش ترین آمدنی ہو سکے اور اس وقت پاکستان سے جو بھی افرادی قوت بیرون ملک جارہی ہے اسے پورے خطے کی نسبت سب سے زیادہ تنخواہ مل رہی ہے“۔

میوسن البرماوی

میوسن البرماوی

معاذ کی پاکستان میں موجود گی کاروباری معاملات کے باعث بھی ہو سکتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی دونوں بیگمات ، شامی بیوی میوسن اور برطانوی نژاد پاکستانی عائشہ خان نے بھی بچوں کے ہمراہ کسی نسبتاََ محفوظ ملک کے بجائے کراچی میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔

میوسن کہتی ہیں ” کبھی کبھی یہاں بہت عدم سلامتی کا احساس ہوتا ہے اور بھاگ جانے کی سوچ بھی آتی ہے لیکن اس ملک سے میری یادیں وابستہ ہیں میرے بچے یہاں پڑھ رہے ہیں تو ہم بھلا کہا ں جا سکتے ہیں“۔

معاذ البرماوی پاکستان میں تین دہائیوں تک مقیم رہنے کے باوجود بھی شام سے وابستہ اپنی شناخت اور جڑوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کی جھلک ان کے رہن سہن ، لباس ، ذوق اور خوارک میں نظر آتی ہیں۔

البرماوی کے بلاگ کا لنک

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں اپنے کام کا دائرہ مزید بڑھاتے ہوئے پاکستانی افرادی قوت کو یورپ خاص طور پر اٹلی برآمد کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ البرماوی نے بتایا کہ انھیں حکومت کی طرف سے بھرپور تعاون اور مدد حاصل ہے۔

آج جہاں پاکستانی بجٹ کا خسارہ اربوں ڈالر تک جا پہنچا ہے تو بیرون ملک ایسے پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ باصلاحیت پاکستانیوں کی بیرون ملک نمائندگی کرنے اور دہشت گردی سے گرد آلود ان کا صحیح تشخص دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک نہیں کئی معاذ درکار ہیں۔

XS
SM
MD
LG