رسائی کے لنکس

شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان ملاقات طے


شام کی حکومت شام میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں جسے وہ ’دہشت گردی‘ کا نام دیتی ہے، بات کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف شام کی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ سوائے صدر بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات کرنے کو راضی نہیں۔

اقوام ِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی لخدر براہیمی کی کاوشوں سے شامی حکومت اور حزب ِ اختلاف کے نمائندے باضابطہ ملاقات کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل جمعے کے روز ایسا کوئی امکان نہیں دکھائی دے رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے دونوں فریق مزید کسی گفتگو کے لیے تیار نہیں۔

لخدر براہیمی کی سفارتکارانہ کاوشوں سے دونوں فریق نے ملاقات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ گو کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں فریق آپس میں گفتگو کریں گے یا پھر 80 سالہ براہیمی کو دونوں پارٹیوں کا موقف ایک دوسرے تک پہنچانا ہوگا۔

واضح رہے کہ شام کے حکومتی اور حزب ِ اختلاف کے نمائندے نہ صرف اپنے اپنے موقف پر ڈٹے نظر آتے ہیں بلکہ مذاکرات میں بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو بالکل تیار نہیں دکھائی دیتے۔

شام کی حکومت شام میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں جسے وہ ’دہشت گردی‘ کا نام دیتی ہے، بات کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف شام کی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ سوائے صدر بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات کرنے کو راضی نہیں۔

لخدر براہیمی کا کہنا تھا کہ، ’ہم شام میں تشدد ختم کرنے کی بات کریں گے۔ میرا خیال میں یہ امر دونوں پارٹیوں پر واضح ہے کہ اس ملاقات کا مقصد جینیوا 1 میں طے پائے جانے والے فارمولے پر عمل درآمد کے لیے راہ نکالنا ہے‘۔
XS
SM
MD
LG