رسائی کے لنکس

شام پُر امن مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری


 اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی (فائل فوٹو)

اس سے پہلے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ابتدائی دور کا آغاز گزشتہ ماہ شروع ہوا جو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا تھا۔

شام کی حکومت اور حزب مخالف کے نمائندے جینوا میں موجود ہیں جہاں وہ امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہو نگے۔

مشرق وسطٰی کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی دونوں فریقوں سے پیر کو ملاقات کریں گے۔

اس سے پہلے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا ابتدائی دور گزشتہ ماہ ہوا تھا جو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا تھا لیکن براہیمی کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھی ابتدا تھی جس سے آگے چل کر مذاکرات کو بامعنی بنایا جا سکتا ہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان زیادہ اختلاف شام میں ممکنہ عبوری حکومت کے قیام اور محصور علاقوں تک امداد کی فراہمی جیسے مسئلوں پر ہے۔

مذاکرات کے ابتدائی دور کے دوران حمص کے جنگ زدہ علاقے میں محصور افراد کی حالت زار بھی بات چیت کا حصہ تھی۔ گزشتہ ہفتے شامی حکومت اور اقوام متحدہ نے تین روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تاکہ شہر میں لوگوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔

حمص کے گورنر طلال بارزئی نے کہا کہ اتوار کے روز 600 لوگوں کو باغیوں کے زیر تسلط علاقوں سے نکالا گیا تھا۔ بین الاقوامی تنظیم ریڈ کریسنٹ اور اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق اس دوارن کئی عورتیں اور بچے مارٹر گولے لگنے سے ہلاک یا زخمی ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی ہنگامی امداد کے کو آرڈینیٹر ولیئری آموس نے کہا ان کو اس اطلاعات سے بڑی مایوسی ہوئی ہے کہ امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا یا گیا ہے۔ جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ شام میں آئے روز عام لوگ اور امدادی کارکن کن خطرات سے دوچار ہیں۔

حمص شہر گزشتہ ایک سال سے شامی فوج کے محاصرے میں ہے اور اس کی وجہ سے شہر میں خوراک کی شدید کمی ہو گئی ہے اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2012ء کے وسط سے اب تک 2500 لوگ محصور ہیں۔

شام کے بحران کی وجہ سے 2011ء سے اب تک ایک لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور لاکھوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔
XS
SM
MD
LG