رسائی کے لنکس

سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ مسٹر اسد نے بدھ کو جعبار کے ہمسایہ مقام پر فوجیوں کے ساتھ رات کا کھانا کھایا، جِس علاقے میں حالیہ مہینوں کے دوران فوج اور مخالف جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہوتی رہی ہے

سال نو کے موقع پر، شام کے صدر بشار الاسد نے دمشق کے مضافات میں اپنی فوجوں کے ساتھ وقت گزارا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اُنھوں نے خانہ جنگی کے شکار اپنے ملک کے محاذ کا دورہ کیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ میں دکھایا گیا ہے ہے کہ مسٹر اسد نے بدھ کو جعبار کے ہمسایہ مقام پر فوجیوں کے ساتھ رات کا کھانا کھایا، جِس علاقے میں حالیہ مہینوں کے دوران فوج اور مخالف جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہوتی رہی ہے۔ مسٹر اسد کو فوجیوں سے گلے ملتے دکھایا گیا، اور ملک کا دفاع کرنے پر، اُنھوں نے فوج کو سراہا۔

سنہ 2013سے شامی افواج باغیوں سے لڑ رہی ہیں اوراُسے دمشق کے مضافات میں جھڑپوں کا سامنا ہے۔

دریں اثناٴ، ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال شام میں 76021 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ہزاروں شہری شامل تھے۔

شام کے تنازعے نےاُس وقت سر اٹھایا جب مارچ 2011ء میں صدر اسد کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ لیکن، کچھ ہی وقت کے اندر اندر، کشیدگی نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی، جس میں تقریباً 200000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG