رسائی کے لنکس

شام: دمشق پر بمباری، بم دھماکے میں باغی کمانڈر زخمی


بم دھماکے میں زخمی ہونے والے باغی کمانڈر کرنل ریاض الاسد کی ایک فائل تصویر

بم دھماکے میں زخمی ہونے والے باغی کمانڈر کرنل ریاض الاسد کی ایک فائل تصویر

باغی کمانڈر کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی ہے اور انہیں علاج کے لیے ترکی منتقل کردیا گیا ہے

شام کے مشرقی علاقے میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں حکومت کے خلاف برسرِ پیکار باغیوں کے ایک اعلیٰ کمانڈر زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق کرنل ریاض الاسد پیر کو باغیوں کے زیرِ انتظام المیادین نامی قصبے میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں زخمی ہوئے۔

حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے تنظیم کو بتایا ہے کہ دھماکے میں باغی کمانڈر کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی ہے اور انہیں علاج کے لیے ترکی منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق بم کرنل الاسد کی گاڑی کے نیچے رکھا گیا تھا۔

کرنل ریاض الاسد 2011ء میں شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے آغاز میں سرکاری فوج سے پہلے پہل بغاوت کرنے والوں میں شامل تھے جنہوں نے بعد ازاں حکومت مخالف باغیوں کی فوج 'فری سیرین آرمی' کی بنیاد رکھی تھی۔

لیکن گزشتہ برس مغربی ممالک کی حمایت سے باغی فوج کی نئی قیادت کا انتخاب عمل میں آیا تھا جس میں کرنل ریاض کو نظر انداز کردیا گیا تھا۔

شام کے دارالحکومت دمشق کا 'امیہ اسکوائر' جو پیر کو باغیوں کے مارٹر حملوں کا نشانہ بنا

شام کے دارالحکومت دمشق کا 'امیہ اسکوائر' جو پیر کو باغیوں کے مارٹر حملوں کا نشانہ بنا

دمشق پر بمباری

شام کے دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے پر باغیوں کے مارٹر حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق "دہشت گردوں" کی جانب سے کیے جانے والے مارٹر بموں کے حملوں میں دارالحکومت کے مرکزی علاقے 'امیہ چوک' میں دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

اس علاقے میں حکمران بعث پارٹی کے صدر دفتر، شامی فضائیہ کی خفیہ ایجنسی اور سرکاری ٹی وی اسٹیشن کی عمارات کے علاوہ دمشق کا پرتعیش ہوٹل اور دیگر اہم تنصیبات بھی واقع ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق 'امیہ چوک' پر مارٹر حملوں کے جواب میں دمشق کے نزدیک واقع جبلِ قاسیون پر نصب سرکاری توپ خانے نے شہر کے نواح میں قائم باغیوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ دو برسوں سے جاری حکومت مخالف تحریک اور خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک لگ بھگ 70 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 10 لاکھ کے لگ بھگ شامی باشندے اپنا گھر بار چھوڑ کر پڑوسی ملکوں میں پناہ گزین ہیں۔
XS
SM
MD
LG