رسائی کے لنکس

شام: حزبِ اختلاف کا اتحاد تسلیم کرنے سے باغیوں کا انکار


Syria Rebels

Syria Rebels

بیان جاری کرنے والے گروہوں میں سے بیشتر سخت گیر نظریات کے حامل اسلام پسند باغیوں پر مشتمل ہیں

شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کے 13 گروہوں نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے نمائندہ اتحاد 'شامی قومی اتحاد' کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

باغی کمانڈروں کی جانب سے منگل کو جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں صدر اسد کی مخالف جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خود کو "اسلام کے زیرِ سایہ از سرِ نو منظم کریں اور اپنی قیادت ان تنظیموں کے سپرد کریں جو شام کے اندر رہ کر اپنی جدوجہد کر رہی ہیں"۔

بیان جاری کرنے والے گروہوں میں سے بیشتر سخت گیر نظریات کے حامل اسلام پسند باغیوں پر مشتمل ہیں جب کہ اس اعلامیے کی باغیوں کی باقاعدہ فوج 'فری سیرین آرمی' کے بعض اتحادی گروہوں نے بھی حمایت کی ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ ان گروہوں سے منسلک باغیوں کی تعداد کتنی ہے لیکن گمان ہے کہ اس اعلامیے سے اتفاق کرنے والے جنگجووں کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔

جن گروہوں کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ان میں مبینہ طور پر 'القاعدہ' کے ساتھ روابط رکھنے والا باغی گروہ 'النصرہ فرنٹ' بھی شامل ہے جسے امریکہ دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

اعلامیے پر باغیوں کے ایک اور سخت گیر گروہ 'احرار الشام' کے علاوہ بعض معتدل مزاج رکھنےو الی تنظیموں – مثلاً 'توحید بریگیڈ' اور 'اسلام بریگیڈ' – کے کمانڈروں کے بھی دستخط ہیں۔

باغیوں نے مذکورہ اعلامیے کی ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر جاری کی ہے جس میں 'توحید بریگیڈ' کے ایک سیاسی رہنما بیان کو پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ باغی تنظیمیں 'سیرین نیشنل کولیشن' کو مسترد کرتی ہیں جو، بیان کے مطابق، مغرب اور سعودی عرب کا حمایت یافتہ اتحاد ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی و عرب ممالک 'شامی قومی اتحاد' کو شام میں حزبِ اختلاف کا نمائندہ اتحاد تصور کرتے ہیں اور اسے شام کی عبوری جلاوطن حکومت کا درجہ حاصل ہے۔

'ایس این سی' میں شامل جماعتوں میں سے بیشتر سیکولر اور لبرل نظریات کی حامل سمجھی جاتی ہیں جنہیں مغربی ممالک مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں۔

باغیوں کے بیان پر دستخط کرنے والوں میں 'القاعدہ' کی شاخ تصور کی جانے والی شامی باغیوں کی سب سے متنازع تنظیم 'آئی ایس آئی ایل' شامل نہیں ہے جس کے تحت مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں مسلمان جنگجو شامی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا 'آئی ایس آئی ایل' نے اس اعلامیے کا حصہ بننے سے خود ہی انکار کیا ہے یا دیگر باغی تنظیموں کی جانب سے اسے اس معاملے پر مشاورت میں شریک ہی نہیں کیا گیا۔

ویڈیو میں 'توحید بریگیڈ' کے رہنما عبدالعزیز سلامے کا کہنا ہے کہ اعلامیے پر دستخط کرنےو الے گروہ سمجھتے ہیں کہ بیرونِ ملک تشکیل دی جانے والی ایسی تنظیمیں جس کے رہنما ملک واپس آنے سے گریزاں ہیں، برسرِ زمین لڑنے والے گروہوں کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

ان کے بقول اسی لیے باغی گروہ یہ سمجھتے ہیں 'شامی قومی اتحاد ' اور اس کی عبوری حکومت باغیوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور اسی لیے انہیں تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

خیال رہے کہ شام میں لڑنے والے باغیوں کے گروہوں کے آپس میں کئی اختلافات ہیں اور ماضی میں ان کے جنگجو مختلف علاقوں پر قبضے کےلیے ایک دوسرے کےخلاف بھی برسرِ پیکار رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG