رسائی کے لنکس

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں نے ملک کے شمالی علاقے میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کرلیا ہے۔

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں نے ملک کے شمالی علاقے میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کرلیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق سرکاری فوجی دستے صوبہ حلب میں واقع 'الجرّاہ' کے فوجی ہوائی اڈے سے پسپا ہوگئے ہیں جس کے بعد یہ مرکز باغیوں کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

حزبِ اختلاف کی ایک اور تنظیم 'لوکل کوآرڈینیشن کمیٹیز' نے کہا ہے کہ ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے باغیوں کی سرکاری فوجی دستوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔

تنظیم کے مطابق حلب ہی کے ایک اور فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے بھی باغیوں اور سرکاری افواج کے مابین لڑائی جاری ہے۔

ایک روز قبل بھی شامی باغیوں نے ایک بڑے ڈیم پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو ملک میں پانی سے بنائی جانے والی بجلی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام خود کو تباہ کررہا ہے جسے روکنے کےلیے ان کے بقول شامی حکومت اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔

پیر کو امریکہ کے شہر نیویارک میں قائم تھنک ٹینک 'کونسل آف فارن ریلینشز' میں خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ شامی بحران کو دو برس گزر جانے کے بعد اب دن گننے کا وقت نہیں رہا بلکہ اس کے بجائے دنیا کو وہاں گرتی لاشیں گننا پڑ رہی ہیں۔

بان کی مون کا کہنا تھا کہ شام میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ہلاکتوں میں 100، 200 لاشوں کا اضافہ، لڑائی اور فرقہ ورانہ کشیدگی میں تیزی آتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں شام ٹکڑے ٹکڑے ہورہا ہے۔

اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر شام میں اقتدار کی جمہوری انداز میں منتقلی کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے آمادہ ہو۔

خیال رہے کہ شامی بحران سے نبٹنے کا لائحہ عمل وضع کرنے پر سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان اختلافات رہے ہیں اور کونسل کے دو مستقل ارکان، چین اور روس، ماضی میں شامی حکومت کے خلاف تین قراردادیں ویٹو کرچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG