رسائی کے لنکس

لبنان میں 50 ہزار شامی بچے مشقت پر مجبور


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

لبنان کی گلیوں میں کام کرنے والے بچوں کا کہنا ہے کہ وہ یومیہ پانچ ڈالر سے بھی کم کما رہے ہیں جبکہ کئی دوسرے بچے قہوہ خانوں، بازاروں، کھیتوں اور تعمیراتی کام کر رہے ہیں۔

غربت کے خلاف کام کرنے والی ایک بین الااقوامی تنطیم 'کیئر' کا کہنا ہے کہ لبنان میں موجود تقریباً پچاس ہزار شامی مہاجر بچوں کو اپنے خاندان کے لیے خوراک اور رہائشی اخراجات کی ادائیگی کے لیے بارہ بارہ گھنٹے تک تکلیف دہ حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔

لبنان میں شامی مہاجرین کی تعداد تقریباً دس لاکھ کے قریب ہے جو کہ لبنان کی آبادی کے ایک چوتھائی کے برابر ہے اور ان کو شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے اب تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلا ک ہو چکے ہیں۔

لبنان کی گلیوں میں کام کرنے والے بچوں کا کہنا ہے کہ وہ یومیہ پانچ ڈالر سے بھی کم کما رہے ہیں جبکہ کئی دوسرے بچے قہوہ خانوں، بازاروں، کھیتوں اور تعمیراتی کام کر رہے ہیں۔ کئی بچوں کو کام کے لیے کئی گھنٹوں تک بس پر سفر کے بعد دارالحکومت بیروت آنا پڑتا ہے۔

بیروت کے ایک مصروف کاروباری علاقے میں گھوم پھر کر جوتے پالش کرنے والے ایک چودہ سالہ شامی مہاجر بچے کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ 6 ڈالر کماتا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ یہ پیسے اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا خریدنے پر خرچ ہوتے ہیں۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسکول جانا چاہے گا تو اس نے کہا کہ "(جی ہاں) جب میں شام واپس جاؤں گا"۔

کئی دوسرے بچے اپنے کنبے کے ساتھ 'حمارا ' میں بھیک مانگتے ہیں جبکہ کئی دوسرے بچے سامان کو تھیلوں میں بھرنے اور کئی ایک گاڑیاں صاف کرنے کا کام کرتے ہیں۔

اردن میں جہاں شامی مہاجرین کی تعداد تقریباً چھ لاکھ کے قریب ہے وہاں شام کی جنگ شروع ہونے کے بعد ملک بھر میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ان کی تعداد ساٹھ ہزار کے قریب ہے۔

اردن اور لبنان کے مہاجر کیمپوں میں یہ بین الاقوامی تنظیم بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کی نقد امداد بھی فراہم کر رہی ہے لیکن اس کے بقول اس کام کے لیے فنڈز ناکافی ہیں۔

کیئر کی ایک عہدیدار جوہانہ مشچرلچ کا کہنا ہے کہ ''حالات اتنے تکلیف دہ ہیں کہ بچوں کی سلامتی اور حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں ہے" ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ رہائش کی سہولتوں کی کمی ہے اور کئی خاندانوں کے لیے ایک یا دو وقت کے کھانے کا حصول بہت مشکل ہے۔

جوہانہ کا کہنا تھا کہ ،''کئی بچے جو جنگ کی وجہ سے یا تو زخمی ہیں یا دہشت زدہ ہیں نہ تو کام کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسکول جا سکتے ہیں"۔

جمعرات کو دنیا بھر میں بچوں کی جبری مشقت کے خلاف دن منایا جا رہا ہے اور مزدوروں کے عالمی ادارے آئی ایل او کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں جبر ی مشقت کرنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 16 کروڑ 80 لاکھ ہے جو 2000ء کے مقابلے میں ایک تہائی کم ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG