رسائی کے لنکس

سرکاری خبر رساں ادارے صنعا نے اطلاع دی ہے کہ فوجی دستے کا اس ’مسلح دہشتگرد گروہ‘ کے ساتھ مقابلہ ہو ا، جو ترک سرحد کے قریبی علاقے سے ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہا تھا

ایسے میں جب اقوام متحدہ کے مبصرین کا ایک مختصر دستہ کمزور جنگ بندی پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے ملک بھر میں پہنچ چکا ہے، حکومت شام اور حزب مخالف کے سرگرم کارکنوں نے ہفتے کے روز ایک دوسرے کے خلاف تشدد کے الزامات عائد کیے۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ دمشق کے علاقے میں چھاپوں کے دوران شامی فورسز نے کم از کم 10افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ سرگرم کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ لتاکیا علاقے میں حکومت اور مخالفین کے مابین جھڑپیں چھڑ گئی ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے صنعا نے اطلاع دی ہے کہ فوجی دستے کا ایک ’مسلح دہشت گرد گروپ‘ کے ساتھ مقابلہ ہو ا، جو ترک سرحد کے قریب کے خطے سے ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہا تھا۔
ایک اور خبر کے مطابق حلب کے علاقے میں مسلح دہشت گردوں نے قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں پر حملہ کرکے اُن میں سے تین کو ہلاک کردیا۔ نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ اس واقع میں دو ’دہشت گرد‘ ہلاک ہوئے۔

مبصر مشن کےتعینات ہونے والے نئے سربراہ، میجر جنرل رابرٹ موڈ ہفتے کے دِن اوسلو سے دمشق روانہ ہوئے۔

جمعے کو مشن کے کرنل احمد ہمیچے نے بتایا کہ گروپ نےبالآخر 300مبصرین بھیجنے کی تیاری کا ہدف مکمل کر لیا ہے۔

اُن کے بقول، سلامتی کونسل کے اختیارات کے پیش نظر 300مبصرین بھیجنے کے کام کو آخری شکل دینے کے لیے فریقین سے بات چیت کرلی ہے۔ اس طرح، مشن نے اپنا ایک اہم کام کر لیا ہے، جو ایک صحیح سمت قدم ہے۔

شام کے ایک سرکاری اخبار نے ہفتے کے دن اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اُن پر باغیوں کو حملوں پر اکسانے کا الزام لگایا۔ ایسو سی ایٹیڈ پریس نے خبر دی ہے کہ ’تشرین‘ نامی اخبار نےعالمی ادارے کے سربراہ پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے، کو باغیوٕ ں کو نہیں۔

جمعے کے روز بھارت میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ اُنھیں اِس بات پر ’سخت تشویش‘ ہے کہ تشدد کی کارروئیاں بند کرنے کے بارے میں بار بار کی حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود، اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

عالمی ادارے کے اندازوں کے مطابق جب سے بغاوت کا آغاز ہوا ہے شام کی طرف سے تشدد کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 9000سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ سرگرم کارکنوں کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 11000سے بھی زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG