رسائی کے لنکس

شام : باغیوں نے حمص خالی کرنا شروع کر دیا


شام اور روس کے فوجی حمص کے علاقے الوائیر سے باغیوں کے انخلا کی نگرانی کررہے ہیں۔ فائل فوٹو

اطاعات کے مطابق الوائیر سے کم از کم چار بسوں کا قافلہ روانہ ہوا جب کہ کئی درجن مزید بسوں کی روانگی متوقع ہے۔ ان بسوں کے ذریعے ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد کو حمص سے نکالا جائے گا جو اس وقت سرکاری فورسز کے محاصرے میں ہے۔

شام کے باغیوں نے اپنا آخری ٹھکانے حمص کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے۔

ہفتے کے روز شروع ہونے والا یہ انخلااس معاہدے کا آخری مرحلہ ہے جس کے نتیجے میں سات سالہ خانہ جنگی کے ابتدائی دنوں میں باغیوں کے قبضے میں جانے والے اس شہر پر حکومت کی عمل داری بحال ہوجائے گی۔

معاہدے کے تحت باغیوں کو چھوٹے ہتھیار اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ہفتے کے روز باغی اپنی خواتین اور بچوں کے ساتھ چھوٹے ہتھیاروں سمیت بسوں پر سوار ہوئے۔

ان میں سے اکثر افراد باغیوں کے کنٹرول کے علاقے ادلیب جارہے ہیں جو ملک کے شمال مغرب میں واقع ہے۔

کئی ایک کی منزل جرابلس تھی جو ترکی کی سرحد کے پاس واقع ہے۔

اطاعات کے مطابق الوائیر سے کم از کم چار بسوں کا قافلہ روانہ ہوا جب کہ کئی درجن مزید بسوں کی روانگی متوقع ہے۔ ان بسوں کے ذریعے ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد کو حمص سے نکالا جائے گا جو اس وقت سرکاری فورسز کے محاصرے میں ہے۔

الوائیر سے باغیوں کا انخلا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

حالیہ مہینوں میں شام کی حکومت اور باغیوں کے درمیان کئی معاہدے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ملک کے مغربی حصے کے کئی شہر جن پر باغیوں کا کنٹرول تھا، اور ان کے گرد سرکاری فورسز نے گھیرا ڈال رکھا تھا، صدر بشار الاسد کی عمل داری میں واپس چلے گئے ہیں۔

شام کی حکومت انہیں مفاہمت کا نام دیتی ہے جس کے تحت دمشق کئی مضافاتی علاقے، اور حلب پچھلے سال کے آخر میں باغیوں سے واپس حکومت کو مل گئے تھے۔

شام کا حکومت مخالف گروپ ان معاہدوں کی مخالفت کرتا ہے، تاہم اس کا یہ کہنا ہے کہ انہیں برسوں کے محاصروں اور شدید بمباری کے نتیجے میں شام کے شہری علاقے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

روس کی مدد سے طے پانے والا الوائیر کے معاہدے پر مارچ میں عمل درآمد شروع ہوا تھا۔ ہزاورں افراد مختلف مراحل میں یہ شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اس معاہدے کی تکمیل پر شہر چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد 20ہزار ہو جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG