رسائی کے لنکس

شام میں صدارتی انتخاب، ووٹوں کی گنتی جاری


صدر بشارالاسد نے اپنا ووٹ وسطی دمشق کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ڈالا۔

صدر بشارالاسد نے اپنا ووٹ وسطی دمشق کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ڈالا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو ہونے والا صدارتی انتخاب صرف ان علاقوں تک محدود رہا جو صدر بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

شام میں منگل کو صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے جس میں امکان ہے کہ صدر بشار الاسد ایک بار پھر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائیں گے۔

انتخابی عمل کو شامی حزبِ اختلاف، باغی تنظیموں، اقوامِ متحدہ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پہلے ہی "ایک دھوکہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کرچکے ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف اور اس کے حامی ممالک کا موقف ہے کہ تین برسوں سے بدترین خانہ جنگی کا شکار ایک ایسے ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں جس کے وسیع رقبے پر حکومت کا اختیار ہی نہ ہو۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو ہونے والا صدارتی انتخاب صرف ان علاقوں تک محدود رہا جو صدر بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

شام کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کی جانے والی ایک ویڈیو میں لوگوں کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر جمع دکھایا گیا جنہوں نے شام کے قومی پرچم اور صدر اسد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

صدر بشارالاسد نے اپنا ووٹ وسطی دمشق کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ڈالا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق اس موقع پر خاونِ اول اسماء الاسد بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

انتخاب میں صدر اسد کا مقابلہ دو نسبتاً غیر معروف امیدواروں سے ہے جن میں سے ایک سابق وزیر حسن النوری جب کہ دوسرے رکنِ پارلیمان ماہر حجاز ہیں۔

تینوں امیدواران کو انتخاب میں حصہ لینے کے لیے شام کی پارلیمان سے اجازت لینا پڑی ہے جس میں صدر بشارالاسد کے حامیوں کی اکثریت ہے۔

لیکن اس برائے نام مقابلے کے باوجود گزشتہ 50 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب صدارتی انتخاب میں دو یا ان سے زائد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہورہا ہے۔

امکان ہے کہ منگل کو ہونے والے انتخاب کے نتیجے میں 2000ء میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کےبعد اقتدار سنبھالنے والے بشار الاسد تیسری بار بھی سات سال کے لیے صدر منتخب ہوجائیں گے۔

سنہ 2007ء کے صدارتی انتخاب میں بشار الاسد بلامقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔

منگل کو ہونے والی پولنگ صبح سات بجے شروع ہوئی جسے شام سات بجے ختم ہونا تھا۔ لیکن حکام نے "لوگوں کے ہجوم کے باعث" ووٹ ڈالنے کے وقت میں نصف شب تک اضافے کا اعلان کردیا تھا۔

شام کے وزیرِ اطلاعات عمران زوابی نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخاب میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت صدر اسد کے مخالفین کے لیے ایک پیغام ہے۔

انتخابی عمل کے دوران باغیوں کی جانب سے کسی بڑے حملے یا کارروائی کی اطلاع نہیں ملی ہے تاہم دارالحکومت دمشق کے رہائشی علاقوں پر منگل کو بعض راکٹ گرے جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ باغیوں کے زیرِ قبضہ شہر کے نواحی علاقوں سے فائر کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ صدر اسد کے خلاف لڑنے والے اسلام پسند باغیوں کے اتحاد 'اسلامک فرنٹ' اور اس کی اتحادی تنظیموں نے انتخاب کو "غیر قانونی" قرار دینے کے باوجود پولنگ اسٹیشنوں پر حملے نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG