رسائی کے لنکس

ایونٹ کا سب سے بڑا مقابلہ کہلانے والے اس میچ کا دونوں ٹیموں پر خاصا دباؤ بھی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ پہلا گروپ میچ جیتنے سے پاکستان کی ٹیم پر بھارت کی نسبت دباؤ کم ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے 'بڑے مقابلے' میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں۔

ہفتہ کو کولکتہ میں کھچا کھچ بھرے ایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں موجود شائقین کے علاوہ دونوں ملکوں اور پوری دنیا میں آباد ان کے شہری ٹی وی اسکرینز کے سامنے جمے بیٹھے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بڑی بڑی اسکرینز لگا کر شائقین کے لیے میچ دکھانے کا خاص انتظام کیا گیا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد سہ پہر ہی سے جمع ہونا شروع ہو گئی تھی۔

ساتھ ہی ساتھ سوشل میدیا پر بھی اس میچ کو لے کر دونوں ملکوں کے انٹرنیٹ صارفین اپنی اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھانے اور تبصرے کرنے میں مصروف ہیں۔

ایونٹ کا سب سے بڑا مقابلہ کہلانے والے اس میچ کا دونوں ٹیموں پر خاصا دباؤ بھی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ پہلا گروپ میچ جیتنے سے پاکستان کی ٹیم پر بھارت کی نسبت دباؤ کم ہے۔

بھارت اگر یہ میچ ہار جاتا ہے تو ٹورنامنٹ میں اس کا سفر جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ وہ پہلے ہی ایک میچ ہار کر پوائنٹس ٹیبل پر نیچے جا چکا ہے۔

ادھر اس میچ کو دیکھنے کے لیے پاکستان سے کئی معروف شخصیات بھی اسٹیڈیم میں موجود ہیں۔

سابق کرکٹر اور حزب مخالف کے اہم رہنما عمران خان بھی یہ میچ دیکھنے کولکتہ گئے ہیں جہاں انھوں نے پاکستانی ٹیم سے ملاقات کی اور انھیں اپنے تجربے کی روشنی میں کھیل سے متعلق کچھ نصحتیں بھی کیں۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق 1992ء کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان نے کھلاڑیوں سے تقریباً 30 منٹ تک نشست کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑی پراعتماد طریقے سے گراؤنڈ میں اتریں اور کسی قسم کا دباؤ نہ لیں۔

سابق کپتان نے کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ میدان میں جیتنے کے لیے اتریں اور اپنی پوری محنت کے ساتھ آگے بڑھیں۔

ماضی پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان عالمی مقابلوں میں بھارت سے کبھی نہیں جیتا لیکن کولکتہ کے ایڈن گارڈن میں کھیلے گئے میچوں میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا ہے۔

ادھر بھارت میں ہی کھیلے جا رہے خواتین ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں پاکستان نے بھارت کو دو رنز سے شکست دے دی ہے۔

XS
SM
MD
LG