رسائی کے لنکس

ہر روز صبح اٹھ کر وہ اپنے نقلی ہاتھوں کو کسی زرہ بکتر کی طرح کہنی سے آگے ختم ہو جانے والے بازووں پر باندھتی ہوگی۔۔ پھرتیز رفتار معاشرے کے ٹھنڈے یخ سمندر میں اپنے نہ ٹوٹنے والے ارادوں کے ساتھ اترتی ہوگی، جہاں صحت مند ہاتھ پیر والے لاکھوں انسان ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں اندھا دھند تیر رہے ہیں۔ کسی کے پاس پیچھے مڑ کر دیکھنے کی فرصت ہے؟

آپ نے جنوبی افریقہ کے بلیڈ رنر آسکر پسٹورئیس کی کہانی تو سن لی ہوگی، جس پر ویلنٹائن ڈے پر اپنی خاتون دوست کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

آسکر پسٹورئیس وہ اولمپک ایتھلیٹ ہیں جس نے پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں سے محرومی کے باوجود اگست 2012ء کےلندن اولمپکس میں 400 میٹر کی دوڑ میں سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔

کاربن فائبر کی مصنوعی ٹانگوں پر بجلی کی تیزی سے دوڑنے والا آسکر پسٹورئیس، 26 سال کی عمر میں جنوبی افریقہ ہی نہیں، دنیا بھر میں جسمانی معذوری کے شکار افراد کےلئے رول ماڈل قرار پایا تھا۔ عالمی ذرائع ابلاغ آج اس رول ماڈل کے اڑان بھرتے ہی بد قسمتی کا شکار ہو جانے کے واقعے پر ہر پہلو سے اظہار افسوس کر رہے ہیں۔

لیکن میرے سامنے عظیمہ زیدی کی اِی میل ہے۔

وہ پاکستان کو انقلاب سے دو چار کر سکتی ہے ۔۔وہ پر عزم ہے۔

وہ معاشرے کی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے۔ وہ سوچتی ہے۔

وہ رنگوں اور برش کے کھیل سے سوچ کو تصویر کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے ۔۔وہ آرٹسٹ ہے۔

اس کی آنکھوں میں اتنا ولولہ اور چہرے پر ایسی تمتماہت ہے کہ آپ اس کے اعتماد کے سامنے احساس کمتری محسوس کرنے لگے۔

وہ اسلام آباد سے امریکہ پہنچنے کا قصہ سنا رہی تھی۔ بتا رہی تھی کہ ایکسچینج سٹوڈنٹ کے طور پر امریکہ میں پڑھنے کا خیال ابتدا میں اس کے لئے کتنا پریشان کن اور نروس کر دینے والا تھا۔ اس کے میزبانوں نے کس خلوص سے اسے اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔۔ کیسے اس کی شخصیت کو اعتماد کی دولت سے مالا مال کیا۔ کیسے ہائی سکول کی ہر سرگرمی میں اس کا میزبان خاندان اس کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا رہا۔

یقین کیجئے، میں اپنی آج کی کہانی کو دلچسپ بنانے کے لئے کسی مبالغے سے کام نہیں لے رہی۔ ایک ماں کی حیثیت سےمیں جانتی ہوں کہ امریکہ میں طلبا کے لئے نہ مواقعوں کی کوئی کمی ہے نہ چیلنجز کی۔ مگر یہ چیلنجز صرف بچوں کے ہی نہیں، ان کے والدین کے لئے بھی ہیں۔ زندگی مصروف ہے اور گھر کا ہر فرد کوئی چھوٹی بڑی، بری بھلی ملازمت کرتا ہے۔ ایسے میں جس گھرانے میں گیارھویں یا بارھویں کلاس کا طالب علم موجود ہو ، وہاں آپ اس دباؤ کا صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں، جو بچے اور اس کے والدین پر ہوتا ہے۔۔

survival of the fittest’ ‘والی بات تو آپ نے سنی ہوگی۔ بس یہی بات ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور اچھی کارکردگی دکھانا ہر بچے کو امریکہ میں کالج کا ’موسٹ آئیڈیل‘ امیدوار بناتا ہے، لیکن ان سرگرمیوں میں حصہ لینا اور ان سب سکول ایونٹس میں بچے کی شرکت یقینی بنانا والدین کی بھی برابر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ میں بھی ایسے ہی کچھ معاملات کو سلجھانے لگی تھی جب میری ملاقات عظیمہ زیدی سے ہوئی۔

وہ پاکستان سے آئی تھی۔ ریاست اوریگن کے شہر یوجین میں ایک امریکی خاندان کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اسی طرح جیسے پاکستان سے ’یس پروگرام‘ کے تحت امریکہ آنے والے ایک سو سے زائد بچے تقریبا ہر سال ٹہرتے ہیں۔

تو جتنی حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ امریکہ میں ہرسال تقریبا 800 خاندان سٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز پر دوسرے ملکوں سے آنے والے طلبا کی اپنے گھروں میں میزبانی کرتے ہیں، اس سے زیادہ حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ کوئی خاندان جان بوجھ کر کسی جسمانی معذوری کا شکار بچے کو اپنے گھر میں ایک سال تک رکھنے اور ہر طرح سے اس کی مدد کرنے کی ذمہ داری رضاکارانہ طور پر اپنے سر لے لے ۔ عظیمہ سے ملاقات سے پہلے میں سٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز کے اس پہلو سے بالکل واقف نہیں تھی۔
عظیمہ بتا رہی تھی کہ، ’میری ہوسٹ فیملی نے مجھے بتایا ہے کہ آزادی کتنی بڑی چیز ہوتی ہے۔ میرے ہوسٹ فادر نے مجھے اپنے ہاتھوں سے ایک وہیل چیر بنا کر دی۔ اور میری ہوسٹ مدر نے مجھےاتنا کانفیڈنس دیا کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی ۔‘

عظیمہ کے لہجے کے اعتماد اور سلجھاؤ سے یہ اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں تھا کہ اس کی تعلیم کسی اچھے ادارے سے ہوئی ہے اور اس کا تعلق کسی پڑھے لکھےگھرانے سے ہے۔

“میں آرٹسٹ ہوں، بہت اچھی ڈرائینگز بناتی ہوں۔ مجھے سائینس میں دلچسپی ہے۔ میں جرنلزم پڑھنا چاہتی ہوں۔

آپ سوچتے ہونگے، ایسی خصوصیات کی حامل لڑکیاں تو پاکستان کے ہر گھر میں موجود ہیں۔ پھر کسی ایک لڑکی کے اس خصوصی ذکر کا کیا مطلب؟

چلئے ، میں آپ کو اپنے اس قدر متاثر ہونے کی وجہ بتاتی ہوں۔

میرے سامنےجو پُراعتماد لڑکی پورے 15 منٹ تک اپنے دونوں پیروں پر کھڑی ہوکر مجھ سے اتنے یقین سے بات کر رہی تھی، اس کے دونوں ہاتھ مصنوعی تھے ۔۔Prosthetic Hands۔۔۔
میں سوچ کر عش عش کر رہی تھی۔۔ ہر روز صبح اٹھ کر وہ اپنے نقلی ہاتھوں کو کسی زرہ بکتر کی طرح اپنی کہنی تک ختم ہو جانے والے بازووں پرباندھتی ہوگی۔۔ پھرتیز رفتار زندگی کے ٹھنڈے یخ سمندر میں اپنے نہ ٹوٹنے والے ارادوں کے ساتھ اترتی ہوگی، جہاں صحت مند ہاتھ پیر والے لاکھوں انسان ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں اندھا دھند تیر رہے ہیں ۔ کسی کے پاس پیچھے مڑ کر دیکھنے کی فرصت کہاں ہے ؟

عظیمہ نے اس ملاقات کے کچھ دن بعد ایک ٹی وی رپورٹ ’فیوچر لیڈر‘ کے لئے مجھے اپنی کچھ تصویریں بھیجیں۔ اور مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا ۔۔

وہ چھوٹی سی لڑکی جن پیروں پر کھڑے ہوکر پورے پندرہ منٹ تک مجھ سے بات کرتی رہی تھی ۔۔ وہ پیر بھی مصنوعی تھے ۔۔Prosthetic feet۔۔

مجھے یاد آیا، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی خاتون نے مجھےاس سے ملوانے سے پہلے بتایا تھا کہ عظیمہ وہیل چئیر پر بیٹھ کر انٹرویو دے گی۔ مگر عظیمہ انٹرویو والے کمرے میں داخل ہوئی تو وہیل چئیر پر نہیں اپنے پیروں پر چل کر آئی تھی۔

ایک منٹ۔۔ ایک منٹ۔۔۔میں کچھ سمجھ نہیں پارہی۔

عظیمہ نے کہا تھا وہ اچھی آرٹسٹ ہے۔ ڈرائینگز بناتی ہے۔ جرنلزم کرنا چاہتی ہے ۔ سائینس کی سٹوڈنٹ ہے۔۔

لیکن، بغیر ہاتھ پاؤں کے کیسے کوئی تصویریں بنا سکتا ہے۔ کیسے کوئی جرنلزم کرنا چاہتا ہے ۔۔کیسے کوئی سائینس کی پڑھائی کرنے کا سوچتا ہے؟

عظیمہ کے والد گل حسن زیدی نے اسلام آباد میں وی او اے کو بتایا تھا کہ وہ اپنی با صلاحیت بیٹی پر کس قدر فخر محسوس کرتے ہیں، جس نے امریکہ میں اپنے ہائی سکول میں انگریزی میں ٹاپ کیا ہے۔ اور ان کی بیٹی کو جرنلسٹ بننے کا موقعہ ضرور ملنا چاہئے ۔ وہ پاکستان میں سپیشل بچوں کے لئے نارمل سکولوں میں کوٹہ مقرر کرنے کی بات کر رہے تھے۔۔وہ کہہ رہے تھے کہ جسمانی معذوری کا شکار بچوں کو الگ تھلگ یا سپیشل اداروں میں تعلیم دلوانے سے ان میں ڈپریشن پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے حکومت کو ایسے بچوں کے لئے نارمل سکولوں میں تمام سہولتوں فراہم کرنی چاہئیں، تاکہ وہ سماجی اکیلے پن کا شکار نہ ہوں۔

عظیمہ کی امی علینہ زیدی کو پاکستان کے سکول سسٹم سے شکایت تھی کہ وہاں سپیشل بچوں کے والدین سے تعاون نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ عظیمہ کو یہاں تک پہنچانے کے لئے ان کے خاندان نے بہت محنت کی ہے۔ یقیناً کی ہوگی۔

علینہ اور گل حسن زیدی کی محنت، عظیمہ زیدی پرجوش آواز میں مجھے بتا رہی تھی کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔۔اور امریکہ میں اس نے سب سے بڑی چیز جو سیکھی ہے وہ ہے خود پر انحصار کرنا۔ وہ پاکستان واپس جاکر اپنے جیسے سپیشل بچوں کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ انسان اگر ٹھان لے تو ہر ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ہائی سکول کا ایک سال مکمل کرنے کے بعد عظیمہ امریکہ سے اسلام آباد واپس چلی گئی۔ اب اسے پاکستان واپس پہنچے چھ ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ ہوچکا ہے۔اور کچھ دن پہلے مجھے اس کی ایک نئی ای میل موصول ہوئی ہے۔

اس نے لکھا ہے کہ پاکستان واپس جا کر وہ اپنے پرانے سکول سے او لیول مکمل نہیں کر سکی، کیونکہ اس کے مہنگے پرائیوٹ سکول نے اسے وہ سپیشل سہولتیں مہیا کرنے سے معذرت کرلی ہے جو معذور افراد کو فراہم کی جاتی ہیں۔ عظیمہ کو اپنے نئے مصنوعی اعضا کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں بھی کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ سائینس کی سٹوڈنٹ ہے اور سکول کی سیڑھیوں والی عمارت میں معذور بچوں کو ایک سے دوسری کلاس اور سائینس لیب تک لے جانے کے لئے کوئی ایسا ریمپ موجود نہیں تھاجو وہیل چئیر پر معذور افراد کو ایک سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

عظیمہ اب ایک پرائیویٹ امیدوار کے طور پر اسلام آباد کی ایک پرائیویٹ اکیڈمی سے او لیول مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وہ کہتی ہے، ’میں پاکستان یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک اور معذور افراد کی بہبود کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں میں جا کر یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ صحت مند افراد کے تعلیمی اداروں میں جسمانی معذوری کا شکار افراد کو مینوئل پاور وہیل چئیر، ریمپس، کمپیوٹر اور ٹائپنگ پیڈ جیسی چند ضروری سہولتیں فراہم کرکے انہیں کیسے آزادی اور خود انحصاری سے جینا سکھایا جا سکتا ہے۔ کچھ اداروں نے قدرے دلچسپی بھی دکھائی، لیکن عملی طور پرکوئی بات آگے نہیں بڑھ سکی ۔‘

اس نے لکھا ہے کہ، ’وہ وہیل چئیر، وہ سپیشل سائیکل، جس پر امریکہ میں قیام کے دوران میں اپنی جسمانی معذوری کے باوجود ایک سے دوسری جگہ جانے کے لئے کسی کی محتاج نہیں تھی۔۔ آج میرے گھر کی سیڑھیوں کے نیچے بے کار پڑی ہیں۔ شائد ابھی میرے خوابوں کے مکمل ہونے کا وقت نہیں آیا۔ پھر بھی زندگی میں کچھ نا ممکن نہیں ہے۔ ‘
ای میل کے آخر میں اس نے امریکہ میں اپنے میزبان والدین ہیرئیٹ اور جان، یس پروگرام کی رابطہ کار شیلا بونگ، اپنے میزبان سکول اوک ہل، اس کے اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ اپنے حقیقی والدین کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ، ’ان کی محبت اور حوصلہ افزائی نے مجھے ایک مثبت انسان بنایا ۔‘

میں عظیمہ کی ای میل میں آپ کو بھی شریک کر رہی ہوں۔ لیکن، یہ سمجھنے میں مجھے کچھ وقت لگے گا کہ وہ پاکستان میں جسمانی معذوری کا شکار افراد کے لئے مثبت سوچ اور مکمل خوابوں کا رول ماڈل کیوں نہیں بن سکتی؟

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG