رسائی کے لنکس

وہ کون سا جذبہ ہے ،جو اپنے ہم خیالوں کو دوست اور اختلاف کرنے والوں کا سر تن سے جدا کرنے سے کم کسی چیز پر راضی ہی نہیں ہوتا؟۔۔۔ کہیں ہمارا اصل مسئلہ دوسروں کو برداشت نہ کرنے کاہی تو نہیں ۔؟ کیوں ہم اپنی مرضی کا نظریہ ہی دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں؟

پاکستان سے آنے والی خبروں کے نگار خانے میں ایک چوٹی کے صحافی کے نگران وزیر اعلی پنجاب بننے کی خبرگرم ہے۔ ٹیلیویژن کے ٹاک شو میزبان پھولے نہیں سما رہے ۔۔۔
ملالہ یوسف زئی پاکستان میں تعلیم کی صورتحال پر کتاب لکھنے جا رہی ہے۔ ایسے میں شائد ہی کسی نے کراچی کے مندروں میں ہولی کا تہوار مناتے ہندووں کو پاکستان میں امن کی دعائیں مانگتے بھی دیکھا ہو ۔۔

مگر یہ تبدیلیاں ملک میں حقیقی جمہوریت اور حقیقی برداشت کا ماحول پیدا کرنے میں کتنی کار آمد ثابت ہوں گی، یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے پیچیدہ سوالنامے کو حقیقی امن اور حقیقی جمہوریت کے 100 نمبر دینے کا ہدف، تب ہی حاصل کیا جا سکے گا، جب انیس کروڑ پاکستانیوں کے ہر طبقے، مذہب، نسل اور مسلکی اقلیت کے لوگوں کو ملک کے سیاسی، معاشی اور شہری زندگی کے تانے بانے میں ان کا پورا حصہ، ان کا due share دیا جائے ۔

ہنگلاج کے ہندو میلے میں شریک خاتون

ہنگلاج کے ہندو میلے میں شریک خاتون

مگر میرے سامنے اعدادو شمار کا ایک پلندہ ہے اور کمپیوٹر پر کھلی دیسی اور بدیسی کھڑکیوں سے جھانکتی معلومات تمام نیک خواہشات اور اچھے ارادوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔

مائینورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے مطابق پاکستانی آبادی کو مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر کئی اقلیتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، لیکن سرکاری سطح پراقلیت کی کوئی باقاعدہ تعریف موجود نہیں ہے۔
اقلیتوں کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک بین الاقوامی ادارے مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستانی آبادی کو مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر کئی اقلیتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، لیکن سرکاری سطح پر اقلیت کی کوئی باقاعدہ تعریف موجود نہیں ہے۔
1973کے آئین میں مائینورٹی یا اقلیت کا لفظ ایک سے زیادہ جگہ استعمال کیا گیا ہے، تاہم یکے بعد دیگرے پاکستان کی کئی حکومتوں نے، اقلیت کا لفظ صرف مذہبی اقلیت کے لئے استعمال کیا ہے ۔

1998کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے 96.28 فی صد شہریوں کا مذہب اسلام ہے۔ آبادی کی اکثریت حنفی مکتبہ فکر کی طرف جھکاؤ رکھنے والے سنی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ غیر مسلم آبادی پاکستان کی کل آبادی کا 3.72 فیصد ہے ۔۔ عیسائی، ہندو ، سکھ ، پارسی اور احمدی ، مذہبی اقلیت شمار کئے جاتے ہیں ۔تاہم 1998 کی مردم شماری، پاکستان میں مختلف مسالک یا فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد کے بارے میں بظاہر کچھ زیادہ واضح نہیں۔

1998 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں رہنے والی ہندو آبادی ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت اور کل آبادی کا 1.6فیصد ہے۔ لاہور کے انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز کی اگست 2012 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا 4.2ملین یعنی بیالیس لاکھ ہندو رہتے ہیں ۔۔ جن میں سے 32لاکھ سندھ میں جبکہ باقی پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں ہیں ۔ رپورٹ کہتی ہے کہ صوبہ ِسندھ میں گزشتہ سال فروری میں ایک ہندو لڑکی رنکل کماری کے اغوا کے واقعے کے بعد 16سو ہندو خاندانوں کےتقریبا 7سے 10 ہزار افراد نے پاکستان سےبھارت یا کسی دوسرے ملک نقل مکانی کی تھی۔

کراچی میں ہونے والی ایک اجتماعی ہندو شادی

کراچی میں ہونے والی ایک اجتماعی ہندو شادی

خوش فہمی تھی کہ ایسی خبریں ٹی وی چینلز کی ریٹنگ ریس کا حصہ ہوسکتی ہیں، مگر پاکستان کے ایک سینئیر ہندو صحافی نے اس خوش فہمی کو غلط فہمی ثابت کر دیا ۔ ضلع جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے اس ہندو صحافی نے مجھے لکھا کہ، ہندو آبادی کی نقل مکانی کی جو خبریں آپ ٹی وی پر دیکھ رہی ہیں، وہ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ سچائی پر مبنی ہیں ۔
حقیقتا سندھ کی ہندو آبادی کو اپنی سیکیورٹی کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔ سوشل میڈیا عام ہونے کے بعد کم عمر ہندو لڑکیوں کی نشاندہی کرکے انہیں اغوا کرنا اور زبردستی مسلمان کرنے کے واقعات عام ہو رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں،کہ زیادتی کسی ایک طبقے کے ساتھ نہیں ، ہر کمزور طبقے کے ساتھ ہو رہی ہے ، لیکن ایک اقلیت کے طور پر ہندو کمیونٹی بہت محرومی اور الجھن کا شکار ہے اور اسے پاکستان چھوڑ دینا ہی مسئلے کا حل دکھائی دیتا ہے۔

یہ سوال اور جواب اگست 2012 کے ہیں۔ اس وقت سے اب تک سندھ میں ہندو خاندانوں کی صورتحال میں کیا بہتری آئی ہے اور آئی بھی ہے یا نہیں۔ شائد آپ ہی اس بارے میں میری معلومات میں کچھ اضافہ کر سکیں ۔

رمشا مسیح

رمشا مسیح

عیسائی، پاکستان کی دوسری بڑی اقلیت ہیں۔ تعداد کے لحاظ سے کل آبادی کا 1.56فیصد اور ملک کی کل 3.72 فیصد غیر مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ۔ صدر ضیاالحق کی حکومت نے پاکستانی آئین کے پینل کوڈ میں توہین رسالت سے متعلق نئی شقوں کا اضافہ کیا تھا۔ جن کی رو سے توہین رسالتﷺ کا مرتکب پایا جانے والا کوئی بھی شخص سزائے موت کا حقدار قرار دیا گیا ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہناہے کہ پاکستانی آئین کی ان ترامیم نے مذہبی اقلیتوں کو کسی بھی ذاتی یا مقامی دشمنی کی وجہ سے توہین رسالت کے مقدمات میں الجھانے کا ایسا راستہ کھول دیا، جس کا شکار اب تک سب سے زیادہ عیسائی آبادی بنی ہے ۔

بےنظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کی دور حکومت میں توہین رسالت کے قوانین میں چند ترامیم کروانے کی ناکام کوششیں بھی کی گئیں۔ لیکن اب یہ معاملہ اس قدر پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہے کہ ان قوانین میں ترمیم کی بات کرنے والوں کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں رہیں ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ توہین رسالت کا صرف الزام ہی عوامی اشتعال کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ جس کا کچھ اندازہ دو سال پہلے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل اورحالیہ مہینے کے شروع میں لاہور کی ایک مسیحی بستی میں ڈیڑھ سو سے زائد مکان جلانے کے واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔

مردان میں جلایا جانے والا ایک چرچ

مردان میں جلایا جانے والا ایک چرچ

پاکستان کے ایک اور اقلیتی گروہ احمدیوں کی صورتحال بھی پیچیدہ ہے۔ جنہیں ​1974 میں پیپلز پارٹی کے اولین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پارلیمنٹ نے آئین میں دوسری ترمیم کی منظور ی دے کر غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔

اپریل 1984میں صدر ضیاالحق نے ایک آرڈینینس کے تحت پاکستان کے پینل کوڈ میں ایس 298 بی ، اور ایس 298 سی کی شقوں کا اضافہ کیا تھا۔ جن کی رو سے احمدیوں کی عبادت کے طریقے کو نماز، عبادت گاہوں کو مسجد کہنے اور ان پر گنبد تعمیر کرنا ممنوع قرار دیا گیا۔ آئین کی ان ترامیم نے بظاہر احمدیوں میں بے چینی پیدا کر دی اور ان کی طرف سے مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے۔ مئی2010 ء میں لاہور میں احمدی عبادت گاہوں میں دھماکوں سےکئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔

لاہور:گڑھی شاہو کی احمدی عبادت گاہ پر حملے کے بعد سیکیورٹی کا منظر

لاہور:گڑھی شاہو کی احمدی عبادت گاہ پر حملے کے بعد سیکیورٹی کا منظر

پاکستانی آبادی کے دیگر اقلیتی گروہوں کا ذکر آئیندہ ہفتے بھی جاری رہے گا ۔۔۔لیکن تب تک سوچئے گا ضرور!۔۔۔ کہ وہ کون سا جذبہ ہے، جو اپنے ہم خیالوں کو دوست اور اختلاف کرنے والوں کا سر تن سے جدا کرنے سے کم کسی چیز پر راضی ہی نہیں ہوتا؟۔۔۔ کہیں ہمارا اصل مسئلہ دوسروں کو برداشت نہ کرنے کا ہی تو نہیں؟ کیوں ہم اپنی مرضی کا نظریہ دوسروں پر تھوپناچاہتے ہیں ؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا؟ اور اس کا فیصلہ کرنے والے ہم کون ؟۔۔ کیوں ہم خود عدالت لگاتے ہیں، خود ہی دوسرے کو مجرم قرار دے کر سزا دینا چاہتے ہیں۔؟ کہیں یہی تو المیہ نہیں کہ اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے ہم دوسروں کی غلطیوں اور کمزوریوں پر نظر رکھنے کے زیادہ عادی ہو چکے ہیں؟ کہیں اسی رویے کو بدلنے کی ضرورت تو نہیں؟ کہیں اصل کام یہی تو نہیں کہ اب اپنی ان خود ساختہ عدالتوں سے کیسے چھٹکارا پایا جائے؟۔۔۔۔

بہت ممکن ہے ،آپ جیسے محنت کوش، سادہ دل اور شریف النفس پاکستانیوں نے ایسی باتیں پہلے کبھی سوچی ہی نہ ہوں ۔۔ مگربہت معذرت کے ساتھ ۔۔۔سوچنا تو پڑے گا!

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG