رسائی کے لنکس

دنیا کے دیگر معاشروں کی طرح، پاکستانی معاشرے میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ ’بدلاوٴ‘ آ رہا ہے۔ سالوں پہلے کچھ موضوعات کو زیر بحث لانا ’انتہائی معیوب‘ سمجھا جاتا تھا، مثلاً جنسی تعلیم، خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے اور ’ازدواجی‘ مسائل۔۔ مگر اب اِن پر سرعام گفتگو ہونے لگے ہے

پاکستانی معاشرے سے ’انقلابی مخالفت‘ بتدریج ختم ہو رہی ہے اور سالوں سے چھائی ’اعتدال پسندی‘ میں اب رفتہ رفتہ تبدیلی آ رہی ہے۔ اب لوگ زیر لب ہی سہی خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں، ’ازدواجی مسائل‘ اور جنسی تعلیم کے ضروری یا غیر ضروری ہونے پر باتیں کرنے لگے ہیں۔

پہلا ثبوت
غالباً گلی محلوں کے کونوں پر واقع کیمسٹ شاپس اور وہاں سے ’ان کہے انداز‘ یا ’اشاروں‘ میں کی جانے والی’خریداری‘کو اس بات کے پہلے اور واضح ثبوت کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ کچھ تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ ’یہ مشاہدہ اب بہت عام ہوگیا ہے۔ کیوں کہ لوگوں میں وقت کا تقاضہ سمجھنے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ اب لوگ خاندان کو بڑھانے سے پہلے اپنے وسائل کو دیکھنے لگے ہیں۔‘

شہر کے وسط میں واقع ایک کیمسٹ شاپ کے مالک جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔۔وی او اے کو بتاتے ہیں ’خاندانی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کی جانے والی مصنوعات کی خریداری پہلے کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔‘

ہو سکتا ہے، دیہی علاقوں اور کچھ پرانی سوچ رکھنے والے علاقوں میں اب بھی ایسا نہ ہوتا ہو۔ لیکن، ان کی تعداد میں، وقت کے ساتھ ساتھ ،کمی آرہی ہے؛ جبکہ شہروں اور خواندگی کی زیادہ شرح رکھنے والے علاقوں، خاص کر پوش ایریاز میں تو ’مانع حمل کی گولیاں‘ اور فیملی پلاننگ کے مردانہ طریقوں ‘سے ’چپہ چپہ‘ واقف ہے۔

رفتار سست، مگر نتائج حوصلہ افزا
محکمہ بہبود آبادی سندھ سے وابستہ ایک افسر ظفر لاشاری کا کہنا ہے، ’پاکستان میں 10سال پہلے کے مقابلے میں 40فیصدزیادہ افراد منصوبہ بندی کے طریقوں پر عمل کررہے ہیں۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب لوگ بھلے ہی ازدواجی زندگی پر زیرلب گفتگو کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہوں، لیکن ان پر عمل درآمد کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے جب کراچی کے ساوٴتھ سٹی اسپتال، او ایم آئی اسپتال، امام کلینک، قطر اسپتال اور دیگر نجی و سرکاری کلینکس کے ماہرین اور ڈاکٹرز سے رابطہ کیا گیا تو ان کا نظریہ بھی یہی تھا کہ ’رفتار سست سہی، لیکن نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ مگر، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ منزل مل گئی۔ بلکہ، ابھی اس سلسلے میں جتنا کام ہوچکا ہے، اس سے بھی زیادہ کام کیا جانا باقی ہے۔‘

دوسرا ثبوت
آج شاید ہی کوئی اخبار، رسالہ یا جریدہ ایسا ہوگا جس میں خاندانی منصوبہ بندی کے اشتہارات شائع نہ ہوتے ہوں۔ پھر ٹی وی پر ہر شام ہی اس کے اشتہارات دکھائے جارہے ہیں۔ ’کونٹرا سیپٹیو ٹیبلٹس‘ کے اشتہارات کچھ سال پہلے تک بالکل دکھائی نہیں دیتے تھے اور اس کے لئے ’حرام‘ جیسی سخت ترین اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ مگر، اب ان ٹیبلیٹس کے اشتہارات بھی عام ہوگئے ہیں۔

ٓاگرچہ ابھی بھی پوری طرح سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان ٹیبلٹیس اور دوسرے طریقوں کو معاشرے میں فراخدلاانہ طور پر اپنا لیا گیا ہے۔ لیکن، اس حوالے سے رویوں میں آنے والی ’نرمی‘ کو واضح انداز میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

تیسرا ثبوت
اس بات کا ایک اور ثبوت نجی ٹی وی چینل ’ہیلتھ ٹی وی‘ سے باقاعدہ دکھایا جانے والا پروگرام ’کلینک آن لائن‘ بھی ہے، جس میں لوگ فون پر میزبان ڈاکٹر ندیم صدیقی سے لائف اسٹائل، صحت اور جنسی مسائل کا حل پوچھتے ہیں۔ بعض کالرز کی جانب سے بہت سے ایسے جنسی مسائل بھی پوچھے جاتے رہے ہیں جنہیں عام طور پر’معیوب‘ سمجھا جاتا ہے اور انہیں سب کے سامنے ڈسکس تک نہیں کیا جاتا۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کال کرنے اور جنسی مسائل پوچھنے والوں میں لڑکیاں یا خواتین بھی شامل ہیں۔ اعتدال پسند معاشرے میں خواتین کا ان مسائل کو بیان کرنا ’ہمت اور دیدہ دلیری‘ کا کام ہے۔ کالرز کی ہر ہفتے بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر اندازہ لگانا آسان نہیں کہ ہر بار زیادہ سے زیادہ لوگ اس جانب متوجہ ہو رہے ہیں اور ان کے نزدیک یہ مسائل ڈسکس ہونے چاہئیں۔

بغور دیکھیں تو ٹی وی پر آکر جنسی مسائل سے آگاہی فراہم کرناجنسی تعلیم کا ہی ایک روپ ہے ورنہ کچھ عشروں پہلے تک اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں محض جنسی تعلیم شروع کرنے کے اظہار خیال پر ہی اچھا خاصا واویلا مچ جاتا تھا۔ مگر اب صورتحال کچھ مختلف ہے۔

جنسی تعلیم ’ضروری‘ یا ’غیر ضروری‘
پاکستانی معاشرے میں’جنسی تعلیم عام ہونا ضروری ہے یا غیر ضروری۔۔اس موضوع بحث کو ’انتہائی حساس‘ سمجھا جاتا رہا ہے۔کتنے فیصد لوگ اس کے حق میں ہیں اور کتنے فیصد مخالف کبھی یہ اعداد و شمار بھی درست انداز میں سامنے نہیں آسکے۔ لیکن، اب بھی بیشتر افراد اس پر کرخت اور جذباتی ہوجاتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ’ہر چیز کی ایک جگہ مقرر ہوتی ہے،جس طرح گھر میں ڈسٹ بن کو دسترخوان پر نہیں رکھا جاسکتا، اسی طرح، جس چیز کے لئے جو جگہ مقرر ہے وہی ٹھیک ہے۔‘

ایک اور عام رائے یہ ہے کہ ’قبل از وقت جنسی تعلیم معاشرے میں بگاڑ کا بھی سبب ہوسکتی ہے۔ بچوں اور بچیوں کا وقت سے پہلے سب کچھ جان لینا بھی ’غلط حوصلوں کے رجحان میں اضافے کا سبب ہوسکتا ہے۔’ لاعلمی‘ کم از کم غلط کرنے سے متعلق خوف کا باعث تو ہے۔ ہمارے زمانے میں تو اتنا بھی کسی کو نہیں پتہ تھا جنتا آج کل کی نوجوان نسل کو معلوم ہے۔ اس لئے، ’رازداری‘ اور ’پردہ داری‘ ہی بہتر ہے۔‘

جنسی تعلیم کے حق میں رائے دینے والے لوگوں کا نظریہ۔۔ یہ ہے کہ ’ان مسائل پر ’کاناپھونسی‘ کے انداز میں ڈسکشن سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید بگڑ سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق، ’اکثر بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیاں ماں سے بھی اپنے مسائل بیان نہیں کر پاتیں۔ ان کے نزدیک ’گناہ‘ کا احساس بہت زیادہ ہے۔ حالانکہ، ایسا نہیں۔ جب تک بیماریوں سے آگاہی نہ ہو درست علاج ممکن کیسے ہوگا؟‘

او ایم آئی اسپتال کراچی سے وابستہ رہنے والی ماہر امراض نسواں ڈاکٹر سعدیہ احسن کے مطابق، ’چونکہ پاکستان سمیت دیگر بہت سے ترقی پذیر ممالک میں جنسی تعلیم کا رواج نہیں۔ اسی سبب، ہر سال کم از کم 20فیصدمائیں پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں، کیوں کہ وہ اپنے مسائل، تکالیف اور بیماریاں کسی سے شیئر کرتے ہوئے بھی ڈرتی اور خوف زدہ رہتی ہیں۔‘

ڈاکٹر سعدیہ کے خیال میں، تعلیم اور عوامی آگاہی کے سبب ماں اور بچے کی صحت سے جڑے بھی بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ لوگوں میں مزید شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے کے مقابلے میں معاشرے میں جدید طریقوں سے متعلق تعلیم کا رجحان بڑھا تو ہے۔ لیکن، شہروں کی حد تک۔ گاوٴں، دیہات، قصبوں اور دور افتادہ علاقوں میں ابھی مزید کام کرنا ہوگا۔‘

XS
SM
MD
LG