رسائی کے لنکس

سریبرے نیچا قتلِ عام پر سربیا کی معافی


سریبرے نیچا

سریبرے نیچا

سربیا کے صدر بورِس تادِچ نے پارلیمنٹ کی جانب سے اُس قرارداد کی منظوری کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیا ہے ، جس میں

1995ء میں سریبرے نیچا میں بوزنیا کے مسلمانوں کے قتلِ عام پر معافی مانگی گئى ہے۔

مسٹر تادِچ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس قرار داد کی منظوری سے ثابت ہوتا ہے کہ سربیا، یورپی ثقافت اور تہذیب کا ایک جزو لاینفک ہے۔

انہوں نے کسی دوسرے ملک کے ستم رسیدہ لوگوں کے لیے احترام کو اعلیٰ ترین حبّ الوطنی قرار دیا۔

سربیا کی پارلیمنٹ کے ارکان نے منگل کے روز وہ قرار داد منظور کی تھی جس میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے اور اُس چیز کو روکنے کے لیے، جسے قرارداد میں ایک جرم اور المیہ کہا گیا ہے ، کافی کوشش نہ کرنے پر معافی مانگی گئى ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ اس معافی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

لیکن بوزنیا کے کچھ مسلمانوں اور زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد بے معنی ہے، اس لیے کہ اس میں قتلِ عام کو نسل کُشی نہیں کہا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG