رسائی کے لنکس

حبیب جالب، اپنی بیٹی اور ایک پرستار کی نظر میں


طاہرہ حبیب جالب، ان کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے برسی کی مناسبت سے بطور خاص وائس آف امریکہ سے اپنی یادیں اور اپنے والد کی باتیں شیئر کیں، جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایک شکوہ بھی کیا۔ یہ شکوہ کیا تھا، انہی کی زبانی ملاحظہ کیجئے:

حبیب جالب پاکستان کے نامور عوامی اور انقلابی شاعر تھے۔ جمعے کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ان کے چاہنے والوں نے ان کی 22 ویں برسی منائی۔

طاہرہ حبیب جالب، ان کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے برسی کی مناسبت سے بطور خاص وائس آف امریکہ سے اپنی یادیں اور اپنے والد کی باتیں شیئر کیں، جبکہ، مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ایک شکوہ بھی کیا۔ یہ شکوہ کیا تھا انہی کی زبانی ملاحظہ کیجئے:

’پاکستان کے انقلابی شاعر کہے جانے والے حبیب جالب کی جب بھی برسی آتی ہے، ایک غلطی ضرور دوہرائی جاتی ہے۔ خاص کر مقامی میڈیا میں ان کی برسی 12مارچ کو بتائی جاتی ہے، جو غلط ہے۔ میں ہمیشہ کہہ کہہ کر درست کراتی ہوں۔ لیکن، پھر بھی ہر سال یہ غلطی کی جاتی ہے۔ ان کا انتقال 12اور 13 مارچ کی درمیانی شب ساڑھے بارہ بجے ہوا تھا۔ گریگورین کلینڈر اور ریاضی کے حساب سے بھی دیکھیں تو 13تاریخ ہی بنتی ہے، کیوں کہ رات بارہ بجے سے اگلا دن شمار ہوتا ہے۔ میں وی او اے کو کہتی ہوں وہ میرے حوالے سے یہ تصحیح ضرور کرائے۔‘

’میں1973ء میں پیدا ہوئی تھی۔ یہ دور جالب صاحب کا تھا۔ سقوط ڈھاکہ ہوچکا تھا، شب خون مارا جاچکا تھا اور میں نے پڑھا ہے کہ جالب صاحب اسی دکھ میں ڈوبے رہتے تھے۔ ہوش سنبھالا تو جالب صاحب کو مشکلوں اور تنگدستی میں دیکھا۔ انہوں نے حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھائی تو جیلیں برداشت کرنے کو ملیں۔ میرے خیال میں وہ تاریخ کی بدترین جیل تھی جو انہوں نے کاٹی۔‘

’جیلوں میں رہتے ہوئے انہیں بہت اذیتیں، بہت تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں۔ جالب صاحب نہ صرف درویش تھے بلکہ بہت دور اندیش انسان بھی تھے۔ لیکن ان کی دور اندیشی نظر انداز کی گئی۔ اگر ان کے نظریات پر عمل کرلیا جاتا تو آج شائد یہ صورتحال نہ ہوتی جو، اب ہے۔ وہ کئی سرزمینوں کی تقسیم کے خلاف تھے اور اسی کی مخالفت میں انہوں نے آواز بلند کی۔‘

ایک باپ اپنی بیٹی کی نظر میں:

’بحیثیت ایک بیٹی میں نے اپنے والد کی شخصیت کو جس طرح کا پایا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ایسے لوگ روز روز نہیں۔ صدیوں میں پیدا ہوا کرتے ہیں۔‘


’ادب کے معاملے میں مذمتی شاعری ہو یا کوئی اور حوالہ۔۔۔ ایسا علمبردار، ایسا حق اور سچ بات کہنے والا شخص میرے خیال میں نہ اب تک آیا ہے اور نہ ہی شاید دوبارہ کبھی آئے۔ میں نے بہت بڑے بڑے نام والے دیکھے، بہت بڑے لوگ ۔۔یہاں تک کہ وہ ادبی لحاظ سے ہی قد آور نہیں بلکہ انسانی اقدار اور اخلاقی لحاظ سے بھی قد آور تھے۔ لیکن، ان لوگوں کو بھی جالب صاحب سے پرہیز کرتے دیکھا اور پھر بھی پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے جالب صاحب کی جو قربانیاں تھیں، جو خواہشات تھیں یا جو ادبی و عوامی خدمات تھیں، انہیں سب کی زبانی سراہتے ہی دیکھا۔ اس لحاظ سے میں اپنے آپ کو بہت حقیر سمجھتی ہوں کہ جالب صاحب کے بارے میں بات کروں۔‘

ارشد صابری، جالب کے دیرینہ پرستار اور ساتھی

ارشد صابری، جالب کے دیرینہ پرستار اور ساتھی

حبیب جالب ایک دیرینہ پرستارکی نظر میں

سردار علی صابری ’تحریک پاکستان‘ کے لئے جدوجہد اور اس کے لئے بیش بہا خدمات انجام دینے والے نامور صحافی تھے، جبکہ ارشد علی صابری ان کے صاحبزادے، سنیئر صحافی اور شاعر ہیں۔ وہ خود کو حبیب جالب کا بہت بڑا پرستار کہتے ہیں۔ حبیب جالب سے انہیں بہت گہری نسیت تھی اور حبیب جالب کے ساتھ گزرے وقت میں اتاری گئی کئی نادر تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں۔

جالب صاحب کی بائیسویں برسی پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے، ارشد علی صابری کا کہنا تھا کہ، ’جالب بہت بڑا نام ہے۔۔اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔ ان کی صرف برسی منالینا ہی کافی نہیں، بلکہ ان پر مسلسل ریسرچ کی ضرورت ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ ان کا استاد کون ہے، اس پر تحقیق ہونی چاہئے ان کی شاعری پر تحقیق ہونی چاہئے۔ کراچی یونیورسٹی میں ان کے نام کی ایک چیئر قائم کی جانی چاہئے۔‘

’جالب صاحب ریڈیو پاکستان کے اسی سیکشن میں کام کرتے تھے جہاں میں جاتا تھا۔ اس دور میں دور، دور تک ٹیلی ویژن کا نام و نشان نہیں تھا۔ کوئی شخص اس وقت تک دانشور نہیں کہلاتا تھا جب تک اسے ریڈیو پاکستان تک رسائی نہیں ہوجاتی تھی، جبکہ جالب صاحب وہاں باقاعدہ کام کیا کرتے تھے تو ان کی قابلیت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ پہلی ملاقات سے ہی وہ مجھ پر بڑے مہربان تھے۔‘

’کسی اور ادیب، شاعر اور دانشور کی برسی کے موقع پر اتنی پابندی سے، اتنی خوش اسلوبی سے پروگرام نہیں ہوتے جتنے حبیب جالب کی برسی پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بہت کچھ لکھا، اتنا لکھا، اتنا لکھا کہ اگر ہم صرف اس کا ذکر بھی کریں تو شاہد ہمارے پاس جگہ نہ رہے۔ لیکن، ان کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے ان کی یہی تخلیق کافی ہے کہ ’میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا ۔۔ایسے قانون کو۔۔ ایسے دستور کو ظلم کی سیاہ رات کو۔۔میں نہیں مانتا ۔۔میں نہیں مانتا۔۔“

حبیب جالب ارشد صابری کے ساتھ

حبیب جالب ارشد صابری کے ساتھ

مختصر خاکہ
حبیب جالب کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ وہ 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور، بھارت میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عریبک ہائی اسکول دہلی سے میٹرک کیا۔ سرحدوں سے ملک تقسیم ہوئے تو وہ کراچی آبسے۔ کئی سیاسی جماعتوں کے قریب رہے۔

انہوں نے زندگی بھر محنت کش طبقے کی زندگی میں تبدیلی کے لئے بہت کوشش کی۔ عوامی خیالات کی ترجمانی اور عوام کے حقوق کے لئے ہی آواز بلند کی۔ وہ سابق صدر ایوب خان کے مرتب کردہ آئین کے خلاف تھے اسی لئے اپنی نظم ’دستور‘ کہی، جو آج بھی بہت مشہور ہے۔ اس کا مصرع ’ایسے دستور کو ۔۔صبح بے نور کو۔۔ میں نہیں مانتا۔۔ میں نہیں مانتا‘۔۔ جالب کو شاعری کی دنیا میں امر کر گیا ہے۔

’عہد ایوب‘میں ہی نہیں وہ ہر دور میں سیاسی و سماجی ناانصافیوں کے خلاف رہے۔ انہیں ہر ’حکومت کا معتوب‘ اور’ عوام کا محبوب‘ جانا جاتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور بے نظیر بھٹو کی حکومتوں میں عتاب کا شکار ہونا پڑا۔

’برگ آوارہ، سرمقتل، عہد ستم، حرف حق، ذکر بہتے خون کا، عہد سزا، اس شہر خرابی میں، گنبد بے در، گوشے میں قفس کے، حرف سر دار اور چاروں جانب سناٹا، ان کے مشہور و معروف مجموعے ہیں‘۔

فلمی شاعری کے ذریعے بھی حبیب جالب نے خوب نام کمایا جبکہ انہیں بعد از مرگ نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ تاہم، 13مارچ 1993ء کو انہیں موت کے فرشتے کا دیدار ہوا اور وہ اسی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG