رسائی کے لنکس

تائیوان: صدر ما کے انتخاب سے خطے پر ہونے والے ممکنہ اثرات

  • رالف جیننگز

صدر ما ینگ جیوس اپنی فتح کے اعلان کے بعد

صدر ما ینگ جیوس اپنی فتح کے اعلان کے بعد

ماہرین کہتے ہیں کہ تائیوان کے صدر ما ینگ جیوس کے دوبارہ منتخب ہونے سے مشرقی ایشیا میں ایک عرصے سے موجود فوجی کشیدگیوں میں مزید کمی ہوگی ۔ چین ، کا دعویٰ ہے کہ تائیوان اس کی مملکت کا حصہ ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز جو انتخاب ہوئے ہیں، ان کے نتیجے میں بیجنگ اور تائی پے کے درمیان تعلقات کے بارے میں مزید چار سال کے لیے مذاکرات کا موقع مل جائے گا ۔

چار سال قبل، تائیوان کے سابق صدر یہ دھمکی دے رہے تھے کہ وہ اس جزیرے کو چین سے آزاد ملک قرار دے دیں گے ۔ چین نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو وہ تائیوان کے جزیرے پر حملے کے لیے اپنی زبردست فوجی طاقت استعمال کرے گا۔ امریکہ عہدے داروں کے لیے یہ بڑی تشویشناک صورت حال تھی کیوں کہ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا چاہتے تھے ۔

صدرچن شوئی بیان کا عہد صدارت 2008 ،میں ختم ہو گیا ۔ ان کے جانشین ما ینگ جیوس نے چین سے تجارت اور اقتصادی امور کے بارے میں بات چیت شروع کر دی تا کہ مقامی معیشت کو مدد ملے اور فوجی کشیدگیاں کم ہو جائیں۔ صدر ما ہفتے کے روز 51 فیصد ووٹوں سے دوبارہ صدر منتخب ہو گئے ۔ انھوں نے عہد کیا کہ وہ چین کے ساتھ شراکت داری کو زیادہ مضبوط بنائیں گے۔ یوں چین کے ساتھ تصادم کا امکان اور کم ہو گیا۔ امریکہ عہدے داروں نے مسٹر ما کو مبارکباد دی، اور چینی حکومت اور سرکاری میڈیا نے انتخاب کے نتائج کی تعریف کی ۔

صدر ما نے انتخاب کے بعد اپنی افتتاحی تقریر میں اپنے مشن کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ تائیوان کے لوگ چین کے ساتھ اپنے تنازعات کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ خطرات کی جگہ کاروباری مواقع کو مل جائے ۔ انتخاب سے ثابت ہو گیا ہے کہ لوگ ایسی موئثر اور صحیح خارجہ پالیسی کو پسند کرتے ہیں جو دوسرے ملکوں کی نظر میں قابل ِ احترام ہے اور جس سے تائیوان کو وقار اور عزت ملتی ہے ۔

1940 کی دہائی کے بعد سے جب چین کی خانہ جنگی میں نیشلسٹ پارٹی کو شکست ہوگئی اور وہ فرار ہو کر 160 میل دور ا س جزیرے پر آ گئی، تائیوان خود اپنے آپ پر حکومت کرتا رہا ہے ۔ چین نے تائیوان کے اقتدارِ اعلیٰ کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے ۔ جب صدر ما نے پہلی بار عہدہ سنبھالا، تو چین نے بات چیت شروع کی جس کے نتیجے میں 16 سمجھوتے ہوئے ہیں، اور مکالمے کا دائرہ ٔ کار بنایا گیا ہے جس کے بارے میں چین کو امید ہے کہ اس سے سیاسی اتحاد کی راہ ہموار ہو گی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان حالات میں، امریکہ کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ تائیوان کے مسئلے پر تصادم کے خطرے کے بغیر، مشرق وسطیٰ اور جزیرہ نمائے کوریا جیسے مسائٖل پر توجہ مرکوز کر سکے۔ امریکہ اس جزیرے کی حفاظت کے لیے مدد دینے کا پابند ہے ۔امریکہ اسے اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے ، اور وہ غیر رسمی طور پر تائی پے کی جمہوری حکومت کا زبردست اتحادی رہا ہے، اگرچہ چین کے ساتھ اس کے زیادہ باقاعدہ تعلقات قائم ہیں ۔

لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ بیجنگ اور تائی پے متحد ہونے کی کوشش کریں، کیوں کہ اس طرح چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کو وسعت ملے گی اور ممکن ہے کہ امریکہ کا اقتصادی اور فوجی اثر و رسوخ کم ہو جائے ۔

آسٹریلیا میں موناش یونیورسٹی کے مطالعۂ ایشیا کے ماہر بروس جیکبز کہتے ہیں’’کم از کم امریکی حکومت کے کچھ حصے ما کی فتح کا گرم جوشی سے خیر مقدم کریں گے ، اور اس حقیقت کو سمجھیں گے کہ ما نے چین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، اور یہ کہ چینیوں نے ، کم از کم کسی حد تک، ان کی اپیلوں کا جواب دیا ہے۔‘‘

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرچہ تائیوان کے بہت سے لوگ صدر ما کی طرف سے چین کے ساتھ تعلقات بڑھانے یا ان کی داخلی اقتصادی پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں، لیکن انھوں نے مسٹر ما کو ووٹ دیا کیوں کہ انھوں نے وہی استحکام پیش کیا جس کا چین اور امریکہ دونوں نے خیر مقدم کیا ہے ۔

61 سالہ سرکاری ایڈمنسٹریٹر نے ڈیموکریٹک پراگریسو پارٹی یا ڈی پی پی کی Tsai Ing-wen کو شکست دے دی۔ ان کی پارٹی تائیوان کے لیے چین سے باقاعدہ آزادی کی علمبردار ہے اور اس نے سابق صدر چن کے عہدِ صدارت میں ان کی حمایت کی تھی ۔ Tsai چین سے بات چیت کرنا چاہتی ہیں لیکن اُن شرائط پر جنہیں وہ تائیوان کے اتفاق ِ رائے کا نام دیتی ہیں، یعنی مکالمے کا ایک نیا دائرۂ کار جسے تائی پے میں پارلیمینٹ کی منظور ی حاصل ہو ۔

ریاست ٹیکسس میں کولن کالج کی کیٹی چن جو تائیوان میں پیدا ہوئی تھیں، کہتی ہیں کہ ووٹرز کے لیے صدر ما کا موقف زیادہ واضح تھا۔’’ ڈی پی پی کا موقف تائیوان کے اتفاقِ رائے پر منحصر ہے جو کچھ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا ۔ ان کے لیے صدر ما ینگ جیوس کا موقف سمجھنا آسان تھا جس کی بنیاد تین نہیں پر تھی، یعنی آزادی نہیں، اتحاد نہیں، اور طاقت کا استعمال نہیں۔‘‘

تائیوان کے 1 کروڑ 30 لاکھ ووٹرز کے لیے، عدم استحکام کا خطرہ ، تشویش کی بڑی وجہ ہے ۔ تائی پے کی پچاس سالہ نرس لی تیان یو کہتی ہیں کہ تائیوان کی بقا کا انحصار چین کے ساتھ اس کے تعلقات پر ہے ۔’’ تائیوان چھوٹا سا ملک ہے اور اس کی داخلی مانگ بہت کم ہے ۔ تائیوان کے بیشتر لوگ ٹکنالوجی یا خدمات فراہم کرنے والی صنعتوں میں کام کرتے ہیں ۔ چین ہمارے بالکل نزدیک ہے اور اس کی منڈی بہت بڑی ہے ۔ ہم وہا ں جا سکتے ہیں اور ان کی زبان سمجھ سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بہت آسانی ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان کے مقابلے پر نہیں آنا چاہیئے ۔‘‘

صدر ما کے عہدے کی دوسری مدت 2016 تک ہے ۔ ان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے قبل، امید یہ ہے کہ چین کے ساتھ سرمایے کی حفاظت کی ضمانت کے سمجھوتے پر دستخط ہو جائیں گے ۔ اور بیجنگ اور تائی پے کہتے ہیں کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان در آمد کی جانے والی اشیاء پر ہزاروں قسم کے محصولات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ امکان یہ ہے کہ چین تائیوان کے ساتھ ایک باقاعدہ امن سمجھوتہ کرنا چاہے گا اور مکالمے کے ایسے ڈھانچے کو قانونی حیثیت دینا چاہے گا جس میں دونوں حصوں کو ایک چین کا حصہ قرار دیا جائے ۔

XS
SM
MD
LG