رسائی کے لنکس

’چین جمہوریت کو فروغ دے‘


’چین جمہوریت کو فروغ دے‘

’چین جمہوریت کو فروغ دے‘

چین میں انقلاب کی 100 ویں برسی پر تائیوان کے صدر ما ینگ جیو نے چین سے کہا ہے کہ وہ دلیرانہ انداز میں آزادی اور جمہوریت کی سمت میں پیش رفت کرے۔

تائی پے میں ایک تقریب کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے مسٹر ما کا کہنا تھا کہ 1911ء کے انقلاب کی سالگرہ کو آبنائے تائیوان کے دونوں اعتراف قابل قدر جانا جاتا ہے، اور جمہوریہ چین کے بانی سن یات سین کو اعزاز بخشنے کا بہترین طریقہ اُن کی جمہوری اقدار کی پیروی ہے۔

فوجی پریڈ اور ایف16- لڑاکا طیاروں کے فلائی پاسٹ سے قبل کی گئی اس تقریر میں تائیوان کے صدر نے چین کو تنبیہ بھی کی۔

اُنھوں نے امریکہ سے حال ہی میں حاصل کیے گئے جدید ہتھیاروں کا خصوصاً ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے ملک نے چین کی طرف سے کسی بھی حملے سے محفوظ رہنے کے لیے مقامی طور پر جنگی ساز و سامان کی تیاری کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا ہے۔

چین نے تائیوان کے آبنائے کے ساتھ سینکڑوں میزائل نصب کر رکھے ہیں اور وہ کئی موقعوں پر تائی پے کو آزادی کا اعلان کرنے کی صورت میں حملے کی دھمکیاں دے چکا ہے۔

اتوار کو بیجنگ میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر ہو جن تاؤ نے تائیوان کی آزادی کی مخالفت پر ایک بار پھر زور دیا، لیکن اُن کا کہنا تھا کہ پُر امن الحاق آبنائے کے دونوں اطراف چین کے مفادات کو پورا کر سکتا ہے۔

اُدھر سابق چینی صدر جیانگ زیمن نے تقریبات میں شرکت کرکے بہت سوں کو حیرت زدہ کر دیا۔

چین میں 1911ء کے ژنہائے انقلاب میں چنگ ڈائنسٹی کا تختہ الٹ دیا گیا تھا جس کے بعد تقریباً 2,000 سالہ شاہی حکمرانی کا اچانک خاتمہ ہو گیا اور چند ہفتوں بعد ہی سن یات سین کی سربراہی میں جموریہ چین کا قیام ہوا۔

البتہ 1949ء میں چیانگ کائی شیک کے قوم پرستوں کے ساتھ خانہ جنگی میں ماؤ زے تنگ کے حامی کمیونسٹوں کی فتح کے بعد حکومتی عہدے دار تائیوان فرار ہو گئے۔

XS
SM
MD
LG