رسائی کے لنکس

مظاہرین چین کے ساتھ ایک دور رس تجارتی معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں جس سے ان کے بقول تائیوان کے شہریوں کی نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

تائیوان میں سینکڑوں مظاہرین قانون ساز ایوان میں زبردستی داخل ہو گئے اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت چین کے ساتھ تجارت کے ایک مجوزہ منصوبے کو ختم کرے۔

مظاہرین منگل رات گئے ایوان کا آہنی گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔

مظاہرین چین کے ساتھ ایک دور رس تجارتی معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں جس سے ان کے بقول تائیوان کے شہریوں کی نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے چین کے بڑھتے ہوے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہو گا۔

مظاہرے میں اکثریت طلبا کی ہے اور ان کے ایک ترجمان ہوانگ یو فن نے کا کہنا تھا اس گروپ کا مطالبہ ہے کہ حکومتی کمیٹی کی طرف سے اس معاہدے پر لیا گیا ابتدائی جائزہ منسوخ کیا جائے۔

‘‘ہم اس حکومتی کمیٹی کے چیئرمین وانگ چن پنگ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گزشتہ روز کیے جانے والے فیصلے کو کالعدم قرار دیں۔ اور ہم صدر ما ینگ جیئو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہاں خو د آئیں اور لوگوں کے مطالبات کے بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کریں۔’’

تائیوان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کئی سالوں سے مضبوط چلے آ رہے ہیں اور گزشتہ سال ہونے والی اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد سیاسی تعلقات میں بھی بہتر ی آئی۔

تائیوان کے حزب اختلاف کو چین کے بڑھتے ہوے اثرو رسوخ کی وجہ سے پریشانی لاحق ہے اور اس نے تجارتی معاہدے کے خلاف ووٹ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے لیکن ان کے پاس درکار قوت نہیں کہ وہ اس کو روک سکیں۔

حکمران جماعت کیومنگٹانگ نے رواں ہفتے اس معاہدے کے ابتدائی جائزے کی منطوری دی ہے جس سے چینی اور تائیوان کی خدمات مہیا کرنے والی کمپنیوں چین اور تائیوان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کر سکیں گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG