رسائی کے لنکس

تائیوان: پارلیمان پر دھاوا بولنے والے طلباء رہنماؤں کے خلاف مقدمہ چلے گا


لن فی فین اور چن وی ٹنگ

لن فی فین اور چن وی ٹنگ

گزشتہ سال مارچ میں طلبا نے مقننہ کی عمارت پر دھاوا بول کر وہاں 23 دنوں تک دھرنا دیئے رکھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت چین کے ساتھ ہونے والے ایک تجارتی معاہدے کو منسوخ کرے۔

تائیوان میں استغاثہ نے گزشتہ سال کئی ہفتوں تک تائیوان کی پارلیمان کی عمارت پر قبضہ کرنے والی طلباء تحریک کے رہنماؤں پر الزامات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ منگل کو کئی طلباء رہنماؤں پر سرکاری امور میں رکاوٹ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

سرکاری میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ جن پر الزامات عائد کیے جائیں گے ان میں طالب علم رہنما لن فی فین اور چن وی ٹنگ اور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر اور محقق کیو چنگ بھی شامل ہیں۔

گزشتہ سال مارچ میں طلبا نے مقننہ کی عمارت پر دھاوا بول کر وہاں 23 دنوں تک دھرنا دیئے رکھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت چین کے ساتھ ہونے والے ایک تجارتی معاہدے کو منسوخ کرے۔

یہ احتجاجی تحریک جسے "سورج مکھی تحریک " کے نام سے بھی جانا جاتا ہے چین کے تائیوان میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے خلاف تحفظات کا اظہار تھا۔

1949 کی خانہ جنگی کے بعد تائیوان چین سے الگ ہو گیا تھا۔ ییجنگ اب بھی اسے اپنا ایک ایسا صوبہ قراردیتا ہے جو بقول اس کے ایک دن چین کے ساتھ دوبارہ متحد ہو جائے گا۔

تائیوان میں ما ینگ جیو کے 2008 اور پھر 2012 میں برسرا قتدار آنے کے بعد تائیوان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ ما ینگ چین کے لیے دوستانہ رویہ رکھتے ہیں۔

گزشتہ سال چین اور تائیوان کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کے بعد ان دونوں کے درمیان سیاسی تعلقات میں بھی گرم جوشی دیکھنے میں آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG