رسائی کے لنکس

حملوں میں داعش کے حامی ملوث تھے، تاجک صدر کا الزام


فائل

فائل

پولیس کے مطابق حملوں میں نائب وزیرِ دفاع جنرل عبدالحلیم نذرزادہ کے حامی ملوث تھے جنہیں جمعے کو صدر رحمان نے ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے رواں ہفتے پولیس پر ہونے والے حملوں کا الزام "داعش کے حامیوں" پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد ان کی حکومت کو کمزور کرنا تھا۔

حکام کے مطابق دارالحکومت دوشنبے اور اس کے نزدیک واقع شہر وحدت میں جمعے کو ہونے والے حملوں میں نو پولیس اہلکار مارے گئے تھے جب کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں بھی کئی افراد مارے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق حملوں میں سابق نائب وزیرِ دفاع جنرل عبدالحلیم نذرزادہ کے حامی ملوث تھے جنہیں جمعے کو صدر رحمان نے برطرف کردیا تھا۔

حکام کےمطابق جنرل نذر زادہ کے حامیوں نے حملوں کے بعد فرار ہو کر ایک گھاٹی میں پناہ لی تھی جہاں انہیں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گھیر لیا تھا۔

حملوں کے بعد امریکہ نے تاجکستان میں واقع اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی لاکھ آبادی کا یہ ملک وسطِ ایشیا کی سب سے غریب اور پسما ندہ ریاست ہے جہاں 1992ء سے 1997ء تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

اتوار کو صدر امام علی رحمان نے حملوں کا نشانہ بننے والے شہر وحدت کو دورہ کیا جہاں انہوں نے کہا کہ حملوں میں "ملوث دہشت گردوں کا ہدف تاجکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا"۔

مقامی افراد کے ساتھ گفتگو میں تاجک صدر نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں کے مقاصد مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش سے ملتے جلتے ہیں۔

اتوار کو تاجک وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے بعد دو دن تک جاری رہنے والی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کل 17 باغی مارے گئے ہیں جن میں سے چار کو گھاٹی میں کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔

بیان کے مطابق سکیورٹی اداروں نے کئی باغیوں کو حراست میں لینےکے بعد ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل نذر زادہ کی مدد کے الزام میں جن مشتبہ افراد کو دارالحکومت دوشنبے اور اس کے مضافات سے حراست میں لیا گیا ہے ان میں عام شہریوں کے علاوہ کئی حاضر سروس اور ریٹائر فوجی افسران بھی شامل ہیں۔

جنرل نذر زادہ کا تعلق حزبِ اختلاف کی جماعت 'اسلامک ریوائول پارٹی آف تاجکستان (آئی آر پی ٹی)' سے ہے جو تاجکستان میں قانونی طور پر کام کرنے والی واحد اسلامی سیاسی جماعت ہے۔

تاجکستان میں سوویت یونین سے آزادی کے بعد ہونے والی پانچ سالہ خانہ جنگی کے دوران جنرل نذر زادہ مسلح ملیشیا کے رکن تھے لیکن بعد ازاں صدر رحمان کی حکومت اور ان کے خلاف برسرِ پیکار اسلام پسندوں کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت انہیں مسلح افواج میں شامل کرلیا گیا تھا۔

معاہدے کے تحت حزبِ مخالف کے اسلام پسند اتحاد کو سرکاری محکموں کی ملازمتوں میں 30 فی صد کوٹہ دیا گیا تھا۔

لیکن حالیہ مہینوں کے دوران 62 سالہ صدر رحمان کی ماسکو نواز سیکولر حکومت اور اسلام پسند حزبِ اختلاف کے درمیان ایک بار پھر تناؤ اور کشیدگی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔

رواں سال جون میں 'آئی آر پی ٹی' کے سربراہ محی الدین کبیری بیرونِ ملک فرار ہوگئے تھے۔ کبیری نے الزام عائد کیا تھا کہ صدر رحمان کی حکومت ان کے خلاف بے بنیاد الزامات پر قانونی کارروائی کرنے والی تھی۔

ہفتے کو روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے صدر رحمان کو ٹیلی فون کرکے حالیہ واقعات پر تشویش اور ان کی حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان 15 ستمبر کو دوشنبے میں ہونے والی ایک علاقائی سربراہی کانفرنس کے دوران ملاقات بھی طے ہے۔

تاجکستان کی خانہ جنگی کے دوران صدر رحمان کی حکومت کو روس کی مدد حاصل رہی تھی جب کہ خانہ جنگی کے خاتمے کےبعد سے روس ان کی حکومت کا اہم ترین حامی اور مددگار ہے۔

تاجکستان میں روس کاا یک فوجی اڈہ بھی موجود ہے جہاں اس کے لگ بھگ چھ ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

XS
SM
MD
LG