رسائی کے لنکس

دونوں ملکوں کے درمیان سات معاہدوں اور مفاہمتوں کی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوئے جن میں دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں کے درمیان تعاون کی مفاہمت کی ایک یادداشت کے لیے مجرموں کے تبادلے کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ تاجکستان کے ساتھ توانائی کے منصوبے کاسا 1000 کی جلد تکمیل کو اہمیت دیتا ہے اور امید ہے کہ یہ 2018ء تک مکمل ہو جائے گا۔

یہ بات وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

میزبان وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ تکمیل کے بعد پاکستان اور تاجکستان کے دوطرفہ تعلقات میں سنگ میل ثابت ہو گا اور اس سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

کاسا 1000 منصوبے کے تحت تاجکستان اور کرغزستان سے پاکستان اور افغانستان کو 1000 میگاواٹ سسٹی بجلی فراہم کی جانی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم اور تاجک صدر کے درمیان ملاقات میں مختلف باہمی امور بھی زیر بحث آئے جن کے بارے میں نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ملک خطے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ موقف رکھتے ہیں اور دونوں ممالک نے توانائی، دفاع، سلامتی، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

صدر امام علی رحمان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں نے سرمایہ کاری کے فروغ اور وفود کے تبادلوں پر اتفاق رائے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

تاجکستان کے صدر بدھ کو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے اور اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان سات معاہدوں اور مفاہمتوں کی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوئے جن میں دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں کے درمیان تعاون کی مفاہمت کی ایک یادداشت کے لیے مجرموں کے تبادلے کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

1991ء میں تاجکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس سے اپنے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور حالیہ برسوں میں ان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے بھی گزشتہ برس تاجکستان کا دورہ کیا تھا اور اس میں بھی پاکستان کو درپیش توانائی کی کمی کے تناظر میں کاسا 1000 منصوبے کی تکمیل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG