رسائی کے لنکس

ایک بے گھر مریض کی کہانی

  • شہناز نفيس

ڈاکٹر اظہر صلاح الدین

ڈاکٹر اظہر صلاح الدین

وہ شخص انتہائی غریب تھا اور بے گھر بھی، یعنی اُسے رات گزارنے کے لیے چھت بھی میسر نہیں تھی۔ اُس کی ایک آنکھ شدید چوٹ کے باعث بُری طرح زخمی تھی۔۔۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دکھی انسانوں کی خدمت کا جذبہ یقیناً ایک مستحسن اقدام ہے اور اِس کا دائرہ مذہب اور رنگ و نسل سے ماورا ہے۔ انسانی ہمدردی کے تحت ضرورت مند افراد کی مدد کی کہانیاں اکثر سننے کو ملتی ہیں اور یقیناً ایسےلوگ اور ادارے احترام کے مستحق ہیں، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔

ایسے ہی ایک دردمند پاکستانی امریکی ڈاکٹر سے ہمارا رابطہ ہوا، جو امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر اظہر صلاح الدین امراضِ چشم کے ایک ماہر ہیں۔ اُن کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے، لیکن یہإں امریکہ میں طویل عرصے سے اپنے پیشے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایک دِن وہ اپنے اسپتال میں مصروف تھے کہ ایمرجنسی میں ایک ایسا مریض آیا جِس کی ایک آنکھ شدید چوٹ کے باعث بُری طرح زخمی ہوگئی تھی اور اِس کا خدشہ تھا کہ اُس کی آنکھ نکالنی پڑے۔

وہ شخص انتہائی غریب تھا اور بے گھر بھی، یعنی اُسے رات گزارنے کے لیے چھت بھی میسر نہیں تھی۔

پھر اِس طرح کے علاج معالجے کا خرچہ ہزاروں ڈالر تھا۔ لیکن، ڈاکٹر اظہر صلاح الدین نے تمام دفتری اور مالی معاملات کو پسِ پُشت ڈال کر اُس کا علاج ہنگامی بنیاد پر کیا اور اُس کی آنکھ بچالی اور وہ اُس کا مزید علاج بھی مفت کر رہے ہیں۔

یہ یقیناً قابلِ تقلید کام ہے اور اِس سے اِس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی ماہرین یہاں کے معاشرے کے اصلی دھارے میں کس طرح شامل ہو رہے ہیں اور کس طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ یقیناً ایک خوش آئند بات ہے۔

انسانی ہمدردی کی اِس کہانی کی تفصیل جاننے کے لیے ہم نے ڈاکٹر اظہر صلاح الدین سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

آئیے سنتے ہیں:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG