رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان کے ایک باشندے کی آپ بیتی

  • شہناز نفيس

فائل

فائل

کانگریس کے ارکان کے سامنے شہادت دینے سے قبل، ’وائس آف امریکہ‘ سے ایک انٹرویو میں رفیق نے اُس دِن کی کچھ یادیں دہرائیں جب اُن کی ماں ڈرون کے ایک مبینہ حملے میں اُن سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی تھیں

پاکستان کے قبائیلی علاقے شمالی وزیرستان کا ایک باشندہ جس کا خاندان ڈرون کے مبینہ حملے سے متاثر ہوا، واشنگٹن آیا ہے اور اُس نے اپنی آپ بیتی کانگریس کے بعض ارکان کے سامنے بیان کی ہے۔

سنہ 2012کی بات ہے جب ڈرون کے مبینہ حملوں میں اُس کی ماں ہلاک ہوگئی اور اُس کے دو بچے زخمی ہوگئے۔ اُس کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ اُس کی ماں علاقے میں مڈوائیف کے طور پر حاملہ عورتوں کی خبرگیری کرتی تھیں اور اُس کی ہلاکت کے بعد اب شمالی وزیرستان کے اِس گاؤں میں ایسی کوئی خاتون موجود نہیں۔

رفیق الرحمٰن کے اِس دورے کا اہتمام یہاں واشنگٹن میں قائم ایک تنظیم New Brave Foundationنے کیا ہے۔ یہ وہی تنظیم ہے جس نے جمائمہ خان کے ساتھ مل کر ایک دستاویزی فلمUnmanned: America's Drone Warsبنائی ہے۔

یہ ادارہ امریکہ کی ڈرون پالیسی کے مبینہ منفی اثرات کی وقتاً فوقتاً نشاندہی کرتا رہا ہے۔

رفیق الرحمٰن ایک پرائمری اسکول کا ٹیچر ہے اور اُس کے دو بچے زبیر اور نبیلہ بھی اُس کے ساتھ ہیں، جِن کی عمریں 13اور نو سال ہے۔

کانگریس کے ارکان کے سامنے شہادت دینے سے قبل، ’وائس آف امریکہ‘ سے ایک انٹرویو میں رفیق نے اُس دِن کی کچھ یادیں دہرائیں جب اُن کی ماں ڈرون کے ایک مبینہ حملے میں اُن سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی تھیں۔

اُس نے کہا کہ اُس کے واشنگٹن آنے کا مقصد کسی کی جانب انگشت نمائی کرنا نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ اُس کے علاقے کے لوگ پُرامن ہیں اور وہ تعلیم اور امن کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتے۔

رفیق کہتا ہے کہ اُس کا خاندان ہمیشہ سے ہی تعلیم کی ترویج سے وابستہ رہا ہے اور صرف اِس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے کہ اُس کے خاندان کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟

وہ کہتا ہے: ’ہم امن پسند لوگ ہیں۔ ہمارا تعلق تعلیم سے ہے۔ امن اور تعلیم کے لیے جتنی کوششیں ہم نے کی ہیں اتنی کسی نے نہیں کیں۔ہمارے خاندان کے تمام افراد کا تعلق تعلیم کے شعبے سے ہے۔ میرے والد ریٹائرڈ استاد ہیں۔ میں بھی استاد ہوں۔ ہم سب استاد ہیں۔ ہم نے ہمیشہ جہالت کو ختم کرنے اور تعلیم کی روشنی پھیلانے کے لیے کام کیا ہے۔ اِس کے باوجود، ہم پر یہ حملے کیوں ہوئے ہیں؟ ہم یہی وجہ معلوم کرنے امریکہ آئے ہیں کہ ہمارا اور میرے بچوں کا جرم کیا ہے‘۔

اِس سوال کے جواب میں کہ کیا اُن کا طالبان کے ساتھ کوئی تعلق تھا یا پھر اُن کے گھر کے آس پاس طالبان رہتے ہیں، اُن کا کہنا تھا، ’نہیں وہاں پر صرف میرے والدین اور میرے بچوں کے کمرے تھے۔ یہاں اور کوئی نہیں تھا‘۔

اکتوبر 2012ء کو ایک مشتبہ ڈرون حملے میں اپنی ماں کی ہلاکت کا واقعہ سناتے ہوئے، رفیق الرحمٰن نے وائس آف امریکہ کو بتایا: ’یہ 24اکتوبر 2012ء کے دِن کے پونے تین بجے کا وقت تھا جب دو ڈرون حملے کیے گئے۔ پہلے حملے میں میرے دو بچے زبیر اور نبیلہ زخمی ہوئے۔ اِس حملے میں ہمارا گھر مسمار ہوگیا۔ دوسرا حملہ کچھ دیر بعد ہوا جِس میں میری ماں ہلاک ہوگئیں۔ ہمیں پتا نہیں کہ یہ کیا تھا۔ لیکن، کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ اور ہم اِس لیے بچ گئے کہ ہم اُس حملے سے کچھ فاصلے پر تھے‘۔

کانگریس کے ارکان کے سامنے مبینہ ڈرون حملے کےبارے میں کسی فرد کی یہ پہلی شہادت ہے۔

پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں مبینہ ڈرون حملے 2004ء سے جاری ہیں۔ اِن حملوں کو امریکی عہدے دار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار تصور کرتے ہیں۔

اِن حملوں میں اب تک تحریک طالبان پاکستان کے بیت اللہ محسود، نیک محمد وزیر اور متعدد خودکش حملہ آوروں اور مبینہ عسکریت پسندوں کو بھرتی کرنے والے قاری حسین مارے جا چکے ہیں۔ اِس کے علاوہ، عہدے داروں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایسے حملے صرف عسکریت پسندوں اوراُن کے لیڈروں پر کیے جاتے ہیں اور شہری آبادی کے تحفظ کا ہر ممکن خیال رکھا جاتا ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجیئے:

XS
SM
MD
LG