رسائی کے لنکس

افغان طالبان نے نئے ’آپریشن منصوری‘ کا آغاز کر دیا


فائل فوٹو

افغان طالبان نے ماضی کی طرح اس سال میں بھی موسم بہار کی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ہدف زیادہ تر "امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی" افواج ہوں گی تاکہ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے۔

جمعہ کو کیے جانے والے باضباطہ اعلان میں افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ "آپریشن منصوری" جمعہ کو الصبح ملک کے تمام 34 صوبوں میں شروع ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کا نام طالبان کے سابق سربراہ ملا منصور کے نام پر رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال امریکہ کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

طالبان کی نام نہاد جنگی کونسل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ "اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان کارروائیوں میں روایتی حملے، گوریلا عسکری کارروائیاں، پیچیدہ (خود کش) حملے اور خود ساختہ بموں کا استعمال کیا جائے گا۔"

اگرچہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران افغانستان میں طالبان کے حملوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، لیکن موسم بہار کے شروع ہونے کے بعد عسکریت پسند اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیتے ہیں کیونکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کے پگھلنے کی وجہ سے جنگجوؤں کو بڑے حملے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

گزشتہ جمعہ ہی کو طالبان نے افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں ایک بڑے افغان فوجی اڈے پر ایک حملہ کیا تھا، جس میں اطلاعات کے مطابق 250 افغان فوجی ہلاک ہوئے۔

اس واقعہ میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لڑائی میں ہلاک و زخمی ہونے والے افغان فوجیوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس نے گزشتہ ہفتہ دورہ کابل کے دوران متنبہ کیا تھا کہ 2017ء افغان سکیورٹی فورسز کے لیے ایک سخت سال ہو گا۔

تجزیہ کار متنبہ کر چکے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں روس اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں سے امریکہ کی قیادت میں افغانستان کو مستحکم کرنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے میٹس کی موجودگی میں بات کرتے ہوئے افغان تنازع میں روس کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کیا، اُنھوں نے اس بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا کہ ماسکو بظاہر طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

2014ء کے اواخر میں افغانستان سے غیر ملکی لڑاکا افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ افغان فورسز کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

عہدیداروں کے اندازے کے مطابق 2016ء میں افغان سکیورٹی فورسز کے لگ بھگ سات ہزار اہلکار ہلاک ہوئے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے مطابق لڑائی میں شدت آنے کی وجہ سے عام شہری بھی بڑی تعداد میں ہلاک و زخمی ہوئے۔

مشن نے جمعرات کو کہا کہ 2017ء کی پہلی سہ ماہی میں 715 افغان شہری ہلاک ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔

’’یو این اے ایم اے‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق لڑائی کی وجہ سے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں خواتین کی ہلاکتوں میں 54 فیصد جب کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG