رسائی کے لنکس

طالبان اور القاعدہ، مشترک نظریہ مگرمختلف مقاصد

  • گیری تھامس

طالبان اور القاعدہ، مشترک نظریہ مگرمختلف مقاصد

طالبان اور القاعدہ، مشترک نظریہ مگرمختلف مقاصد

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ طالبان کا ایک دھڑا پچھلے اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ القاعدہ کے قریب رہا ہے ۔ اس تحقیقی مطالعے سے دہشت گرد گروپوں کے لیے پاکستان کی مبینہ حمایت، اور افغانستان میں امن مذاکرات کے بارے میں بعض نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

دہشت گردی کے بہت سے ماہرین کا ایک عرصے سے یہ خیال رہا ہے کہ اگرچہ طالبان اور القاعدہ میں انتہا پسندی کا نظریہ مشترک ہے، لیکن ان کے مقاصد نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ اس خیال کے مطابق، طالبان کی دلچسپی بنیادی طور پر مقامی اور قومی مسائل میں ہے، اور انہیں القاعدہ کے مغر ب کے خلاف عالمی جہاد کےایجنڈے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے ۔

لیکن حال ہی میں یو ایس ملٹری اکیڈمی ایٹ ویسٹ پوائنٹ کی ایک تحقیقی رپورٹ میں طالبان کے کم از کم ایک اہم گروپ کے بارے میں اس تاثر کو غلط قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے سرکردہ مصنف ڈان راسلر کہتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کا نظریہ اور عزائم ایک جیسے ہیں۔ گذشتہ تین عشروں کے دوران، افغانستان اور پاکستان کے علاقے میں، اس گروپ نے علاقائی، مقامی اور عالمی سطح پر عسکریت پسندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

طالبان کوئی واحد تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ کئی نیٹ ورکس کا مجموعہ ہے ۔ ان میں حقانی نیٹ ورک کو سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے ۔ افغانستان میں دہشت گردی کے بعض انتہائی خونریز اور ہولناک حملے اس تنظیم نے کیے ہیں۔اس نیٹ ورک کی ابتدا 1980 کی دہائی میں ہوئی۔ قبائل پر مشتمل اس گروپ نے جلال الدین حقانی کی سربراہی میں افغانستان میں سوویت قبضے کے خلاف جنگ کی ۔ خیال ہے کہ اب اس نیٹ ورک کی قیادت اس کے بیٹے سراج الدین کے پاس ہے ۔ یہ گروپ جنوب مشرقی افغانستان کے تین صوبوں میں جسے لویہ پکتیا کہتے ہیں، سرگرم ہے لیکن پاکستان میں فاٹا کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پناہ لیتا ہے ۔

راسلر کہتے ہیں کہ حقانی گروپ اور ان لوگوں کے درمیان جو بعد میں القاعدہ بن گئے، 30 سال سے تعلقات قائم ہیں۔ جب طالبان بر سرِ اقتدار تھے اور 1990 کی دہائی میں القاعدہ کی میزبانی کر رہے تھے، تو طالبان سے ان کے بڑے قریبی تعلقات تھے، لیکن انھوں اس وقت بھی بڑی حد تک اپنی خود مختاری بر قرار رکھی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ القاعدہ کے ساتھ تعلقات کے بارےمیں، حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے درمیان، جسے اب کوئٹہ شوریٰ کہا جاتا ہے، اس وقت بھی اختلافات موجود تھے ۔ حقانی نیٹ ورک نے اسامہ بن لادن اور غیر ملکی جنگجوؤں کو کہیں زیادہ گرم جوشی سے خوش آمدید کہا تھا جب کہ کوئٹہ شوریٰ باہر کے لوگوں کے بارے میں زیادہ محتاط تھی۔

راسلر کہتے ہیں’’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئٹہ شوریٰ کے طالبان کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات نہیں تھے ۔ تعلقات تھے تو ضرور لیکن حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کے تعلق کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختلافی اور متنازع تھے ۔ 1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت نے جسے آج کل کوئٹہ شوریٰ کہا جاتا ہے، القاعدہ کے ارکان پر جو پابندیاں عائد کی تھیں، ان سے بچنے کے لیے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دوسرے ارکان، حقانی نیٹ ورک کو استعمال کرتے تھے۔‘‘

افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے زمانے میں، حقانی گروپ کو پاکستان سے اسلحہ، اور پیسہ ملا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان آج بھی افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے کے لیے ، اور اپنے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں اپنا اختیار قائم رکھنے کے لیے حقانی گروپ کو استعمال کرتا ہے ۔

جلال الدین حقانی (فائل فوٹو)

جلال الدین حقانی (فائل فوٹو)

راسلرکہتے ہیں’’تاریخی اعتبار سے پاکستان کی مملکت کے ساتھ حقانی گروپ کے قریبی تعلقات رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ یا آئی ایس آئی کے لیے بھی کام کرتا رہا ہے ۔ اس قسم کے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ یہ روابط جاری ہیں۔‘‘

اسامہ بن لادن کو امریکہ کی ایک چھاپہ مار پارٹی نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ڈھونڈھ نکالا اور اسے ہلاک کر دیا۔ وہ وہاں کیسے چھپا رہا، اور کون اس کو پناہ دیے ہوئے تھا، یہ بات اب تک کھلے عام بتائی نہیں گئی ہے ۔راسلر کہتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے کسی سیاسی سمجھوتے میں مذاکرات کے لیے حقانی نیٹ ورک کا نام سامنے رکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ افغان اور امریکی حکومت کو اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

راسلر کہتے ہیں کہ القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی تاریخ کے پس منظر میں، حقانی نیٹ ورک پاکستان کے لیئے بہت اہم ہو سکتا ہے لیکن اس سے اصل میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں امریکہ اور پاکستان کے اہداف ایک جیسے نہیں ہیں۔اس طرح علاقے سے ہماری اپنی فوجیں نکالنے اور طالبان کے ساتھ مصالحت کی کوششوں میں خلل پڑتا ہے ۔

راسلر کہتے ہیں کہ طالبان لیڈر ملا عمر اور کوئٹہ شوریٰ طالبان کے ساتھ مذاکرت کرنے میں ، حقانی نیٹ ورک کے مقابلے میں خطرات کم ہیں کیوں کہ کوئٹہ شوریٰ کے ساتھ القاعدہ کے اتنے قریبی تعلقات نہیں تھے جتنے حقانی گروپ کے ساتھ تھے ۔

XS
SM
MD
LG