رسائی کے لنکس

طالبان نے امریکی فوج کو وسیع اختیار ملنےکے فیصلے کو اہمیت نہیں دی


فائل

فائل

طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اس اقدام سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چونکہ یہ ’’مسلح مزاحمت‘‘ کی راہ روکنے یا اسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اس سے محض امریکی وسائل برباد ہوں گے، جب کہ لڑائی میں اُن کی ہلاکتیں بڑھیں گی‘‘

افغان طالبان نے امریکہ کی جانب سے مذہبی سرکشی کے خلاف فضائی کارروائیوں میں تیزی لانے اور ضرورت پڑنے پر امریکی فوجیوں کی میدانِ جنگ میں تعیناتی سے متعلق نئے امریکی منصوبے کو ’’بیکار‘‘ قرار دیتے ہوئے، اِس کی مذمت کی ہے۔

کئی ماہ کے مباحثے کی روشنی میں، امریکی صدر براک اوباما نے امریکی افواج کے لیے وسیع تر کردار کی منظوری دی ہے، تاکہ افغان سکیورٹی فورسز کو طالبان سے نبردآزما ہونے میں مدد دی جاسکے۔

طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اس اقدام سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چونکہ یہ ’’مسلح مزاحمت‘‘ کی راہ روکنے یا اسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اِس سے محض امریکی وسائل برباد ہوں گے، جب کہ لڑائی میں اُن کی ہلاکتیں بڑھیں گی‘‘۔

مجاہد نے ہفتے کو ’وائس آف امریکہ‘ کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم قبضے اور لڑائی کو توسیع دینے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم امریکیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ گذشتہ 15 برسوں کے دوران افغان قوم نےخوبی کے ساتھ اُس کی جانب سے طاقت کے استعمال کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ہم میں حوصلہ ہے اور قبضے کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھیں گے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ تقریباً 500000 امریکی تربیت یافتہ افغان فوجی، پولیس، انٹیلی جنس اہل کار اور مقامی ملیشیائیں آئے روز ہلاکتیں برداشت کر رہی ہیں، جب کہ وہ طالبان کے ہاتھوں میدانِ جنگ سے راہِ فرار حاصل کررہے ہیں۔

مجاہد کے بقول، ’’اور ہم یہی التجا کرتے ہیں کہ آئو ہمارے ساتھ پنجہ آزمائی کرو‘‘۔ اُنھوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ امریکی فوج طالبان کا کچھ بگاڑ نہیں سکی، جب کہ جدید اسلحے اور چند برس قبل تک اُس کے 10000 سے زائد فوجی تعینات تھے۔

سنہ 2014 میں زیادہ تر امریکی اور نیٹو کی لڑاکا افواج کا افغانستان سے انخلا ہو چکا ہے، اور ’رزولوٹ سپورٹ مشن‘ کے نام پر اُس کی تقریباً 13000فوج باقی ہے، جس کا مقصد مقامی افواج کی تربیت، مشاورت اور اعانت ہے۔

دریں اثنا، صدر اشرف غنی کی اتحادی حکومت نے افغانستان میں امریکی فوج کے وسیع تر کردار سے متعلق فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے انسداد میں مدد ملے گی۔

صدارتی ترجمان، شاہ حسین مرتضوی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’مشن کو وسعت دینا افغانستان اور خطے کے عین مفاد میں ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان اور امریکہ کے مابین موجود باہمی سکیورٹی کے سمجھوتے کے تحت ایسی تبدیلیوں کی گنجائش ہے۔

یہ معلوم کرنے پر آیا امریکہ نے یہ فیصلہ حکومتِ افغانستان کی درخواست پر کیا، مرتضوی نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتایا کہ یہ فیصلہ مئی کے وسط میں افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے چار فریقی اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس جلاس میں افغان طالبان کے خلاف حملے تیز کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا گیا تھا۔

تنازعے کے نتیجے میں اب تک امریکہ کے 700 ارب ڈالر خرچ آئے ہیں، جب کہ 2200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، سنہ 2015کے دوران لڑائی میں 3500 افغان شہری ہلاک جب کہ 7500زخمی ہوئے، جس نے زیادہ تر ہلاکتوں کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہرایا ہے۔

XS
SM
MD
LG