رسائی کے لنکس

یہ اعلان اور یہ اطلاعات کہ امریکہ لڑائی کے شکار اِس ملک میں اضافی امریکی فوجیں بھیج رہا ہے، تاکہ افغان افواج طالبان کو کنٹرول کرسکیں، اِس تشویش میں اضافہ ہوتا ہے کہ اس سال مخاصمانہ کارروائیوں اور خونریزی میں اضافہ ہو سکتا ہے

طالبان نے واضح طور پر کہا ہے کہ موجودہ افغان حکومت سے امن سمجھوتا کرنے کا مطلب ’’دشمن‘‘ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف اور اسلامی اعتقاد کے برخلاف عمل ہوگا۔

اسلام نواز سرکشوں نے ذرائع ابلاغ کو بیان جاری کیا جن میں ’وائس آف امریکہ‘ بھی شامل ہے، اِن رپورٹوں کے جواب میں کہ اُن کے نمائندوں نے سابق باغی گروپ کو بتایا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اعلان اور یہ اطلاعات کہ امریکہ لڑائی کے شکار اِس ملک میں اضافی امریکی فوجیں بھیج رہا ہے، تاکہ افغان افواج طالبان کو کنٹرول کرسکیں، اِس تشویش میں اضافہ ہوتا ہے کہ اس سال مخاصمانہ کارروائیوں اور خونریزی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

طالبان کی جانب سے کابل مذاکرات کی مذمت سے امریکی حمایت یافتہ حکومت کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے، جس نے غیر معروف قبائلی سردار گلبدین حکمتیار سے کیے گئے امن سمجھوتے کی تشہیر کی تھی اس توقع کے ساتھ کہ اس سے طالبان راہنماؤں کو حوصلہ ملے گا، جو تشدد کی راہ ترک کرکے سیاسی مفاہمت کی جانب بڑھیں گے۔

باغیوں کے اہم ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’’اسلامی امارات (طالبان) کا مؤقف یہ ہے کہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور اُنھیں اپنے منحوس عزائم حاصل کرنے میں مدد دینا نہ صرف ملک کے لاکھوں شہداٴ کے جذبات کے منافی ہوگا، بلکہ شریعہ (اسلامی قانون) کی بھی خلاف ورزی ہوگی‘‘۔

اُنھوں نے حکمت یار گروپ، ’حزب اسلامی گلبدین (ایچ آئی جی)‘ کے ارکان کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کو ’’بے بنیاد پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا کہ ملک میں طالبان اہل کاروں کا قطر میں قائم نام نہاد سیاسی دفتر سے رابطہ ہوا ہے
اور وہ حکومتی قیادت والے امن مذاکرات کے عمل میں شرکت کے خواہش مند ہیں۔

تاہم، واشنگٹن میں قائم ’مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ سے تعلق رکھنے والے، پروفیسر مارون وائن بام کا کہنا ہے کہ شروع ہی سے طالبان امن عمل اور باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بین الاقوامی کوششوں میں شریک ہونے سے دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اُن کا یہ انداز ’’غلط فہمی پر مبنی‘‘ ہے کہ وہ برابری کا درجہ رکھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG