رسائی کے لنکس

ویڈیو میں اردن کے خود کش حملہ آور کا طالبان سربراہ کا بدلہ لینے کا عہد

  • روی کھنہ

خود کش حملہ آور جس نے مشرقی افغانستان میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں سی آئی اے کے سات ملازمین کو ہلاک کیا، ہفتے کو دکھائی جانے والی ویڈیو میں وہ پاکستانی طالبان سربراہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ بیٹھے دکھائی دیے۔ ویڈیو میں ہمایوں خلیل ابو ملال البلاوی کہتے ہیں کہ وہ طالبان کے پچھلے سربراہ بیت اللہ محسود کا بدلہ لیں گے، جو اگست میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ البلاوی کو امریکہ اور اردن نے القاعدہ پر مخبری کے لیے بھرتی کیا تھا۔ لیکن ٹیپ میں البلاوی کہتے ہیں کہ وہ مجاہدین کے پاس گئے اور اُنھیں القاعدہ کے اندر داخل ہونے کی غرض سے باخبر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 30دسمبر کے خودکش حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی طالبان اور القاعدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریبی رابطے میں ہیں۔

ہمایوں خلیل ابو ملال البلاوی اردن کے ڈاکٹر تھے، جس کے خودکش حملے میں گذشتہ ماہ سی آئی اے کے سات ملازم ہلاک ہوئے۔ اُس کے بارے میں ویڈیو الجزیرہ اور این پاکستانی خبروں کے چینل پر دکھائی گئی۔

ویڈیو جسے حملے سے پہلے ریکارڈ کیا گیا ہے، البلاوی کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے قتل کا بدلہ لیں گے۔ ٕمحسود اگست میں امریکی ڈرون حملے میں فوت ہوئے۔

البلاوی کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص حکیم اللہ محسود ہے، جو پاکستانی طالبان کے نئے سربراہ ہیں۔

البلاوی کے بقول، طالبان اور القاعدہ کے خلاف جاسوسی کرنے کے لیے اُنھیں اردن اور امریکی انٹیلی جنس نے لاکھوں ڈالر کی پیش کش کی تھی۔ لیکن اُس نے شدت پسندوں کے درمیان داخل ہونے کے ارادوں سے آگاہ کیا۔

اُن کے الفاظ میں ‘میں مجاہدین کے پاس گیا تاکہ یہ سب کچھ بتا دوں، اور ہم نے مل کر اِس حملے کا بندوبست کیا۔’

آزاد ذرائع سے اِس ویڈیو کی تصدیق حاصل نہیں ہوسکی۔

بغیر پائلٹ کے جاسوسی طیاروں کی مدد سے سی آئی اے القاعدہ اور پاکستانی طالبان پر حملے کرتی رہی ہے۔ خوست میں سی آئی اے کےاڈے کے اگلے محاذ پر حملے کے بعد ادارے کی طرف سے اِن حملوں میں تیزی آئی ہے۔
القاعدہ سے متعلق ماہر جیرٹ براچ مین کہتے ہیں کہ خود کش حملہ ظاہر کرتا ہے کہ القاعدہ اب پاکستانی طالبان کے ساتھ کہیں زیادہ زیادہ قربت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

جیرٹ براچ مین کے الفاظ میں: در حقیقت وہ (القاعدہ) علاقے میں شدت پسندی کروانے کے کردار میں دکھائی دے رہی ہے۔ اِس لیے میں سمجھتا ہوں کہ القاعدہ جوں جوں پاکستان کے اندرونی علاقوں میں جڑیں مضبوط کر لے گی، ویسے ہی ہم دیکھیں گے کہ القاعدہ اور پاکستانی طالبان کی طرف سےحملوں میں تیزی آتی جائے گی۔

ابلاغِ عامہ کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اردنی خفیہ ادارے کے خیال میں ڈاکٹر کو القاعدہ کے خلاف امریکی کارروائیوں میں مدد دینے کے لیے آمادہ کیا گیا تھا۔ خبروں کے مطابق البلاوی کو القاعدہ کے نمبر دو ایمن الظواہری کو زندہ پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

البلاوی کی بیوہ دفنے بیراک کا تعلق ترکی سے ہے۔ اُنھوں نے استنبول میں صحافیوں کو بتایا کہ اُن کا میاں امریکیوں کے لیے کام نہیں کر سکتا تھا۔
اُن کے الفاظ میں ‘یہ ناممکن ہے کہ وہ امریکی ایجنٹ تھا۔ وہ امریکہ دشمن تھا اُس کے لیے کیسے کام کر سکتا تھا۔ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ اور اردن کو استعمال کرسکتا تھا۔’

امریکہ میں جن کے عزیز مشرقی افغانستان کے سی آئی اے کے اڈے پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے تھے، ہلاک ہونے والوں کی تدفین میں ٕمصروف ہیں۔سی آئی اے کے ایجنٹوں کے جنازے شاذو نادر ہی عام دیدار کے لیے رکھے جاتے ہیں۔

بوسٹن میں سی آئی اے ایجنٹ ہیرلڈ براؤن کے لیے دعائے خیر کی گئی۔ ہیرلڈ کی بیوہ کے الفاظ میں: ‘ہر لحاظ سے وہ امریکی ہیرو تھے۔ اُس نے دو عشروں تک بہادری سے فوج کا یونی فارم پہنے رکھا۔’

ریاست واشنگٹن میں سی آئی اے کنٹریکٹر ڈین کلارک پاریسی کی رسومات ادا کی گئیں۔

XS
SM
MD
LG