رسائی کے لنکس

طالبان نے یونانی باشندہ رہا کردیا

  • ب

ہتھیار اٹھائے ہوئے یونانی شہری کی پاکستانی عمائدین کے ساتھ ایک فائل فوٹو

ہتھیار اٹھائے ہوئے یونانی شہری کی پاکستانی عمائدین کے ساتھ ایک فائل فوٹو

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ افغان طالبان جنگجوؤں نے یونان کے اُس باشندے کو رہا کر دیا ہے جسے وہ سات ماہ قبل چترال کے ایک علاقے سے اغواء کر کے سرحد پار افغانستان لے گئے تھے۔

اسلام آباد میں یونان کے سفیر نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں ایتھاناسویس لیریونیس Athanassios Lerounis کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونانی باشندے سے اُن کی ٹیلی فون پر بات ہو گئی ہے اور وہ متعلقہ پاکستانی سکیورٹی کے اداروں کے محفوظ ہاتھوں میں ہے جو اُسے جمعہ تک اسلام آباد منتقل کردیں گے۔

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ اغواء کاروں نے یونانی باشندے کوافغانستان کے ایک سرحدی علاقے میں چھوڑ دیا تھا جہاں سے اُسے واپس چترال لایا گیا۔ ضلعی رابطہ افسر رحمت اللہ وزیر کے مطابق مغوی کی رہائی ایک مشکل کام تھا لیکن پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

انھوں نے بتایا کہ یونانی باشندے کو اغوا کرنے کے بعد سرحدی افغان صوبے نورستان میں منتقل کر دیا گیا تھا اور چترال سے تعلق رکھنے والے عمائدین اپنے اس غیر ملکی مہمان کی رہائی کے لیے طویل عرصے سے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی بات چیت کے نتیجے میں لیریونیس کو رہائی ملی ہے ۔

اغوا کاروں نے یونانی باشندے کی رہائی کے لیے تاوان اور پاکستان میں قیدتین طالبان شدت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن ڈی سی او چترال کا کہنا ہے کہ لیریونیس کو غیر مشروط طور پررہا کیا گیا ہے اور اغواکاروں کا کوئی مطالبہ نہیں مانا گیا۔

لیریونیس ایک امدادی تنظیم کے ساتھ مل کر وادی کیلاش کی آبادی کی فلاح بہبود کے کام میں مصروف تھا اور اُسے سات ستمبر کو اغو کیا گیا تھا۔

وادی کیلاش میں بسنے والوں میں سے بعض افراد کی رنگت اور ہلکے رنگ کی آنکھیں بعض ماہرین کے مطابق اس بات کی غمازی کرتی ہیں کے ان کا تعلق قدیم وسط مشرقی آبادی سے ہو سکتا ہے یا پھر یہ اُن فوجیوں کی اولاد ہو سکتے ہیں جوسکندر اعظم کی فو ج میں شامل تھے جس نے چوتھی قبل مسیح میں اس علاقے کو فتح کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG