رسائی کے لنکس

افغانستان: طالبان کے حملے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک


فائل

فائل

حملہ آوروں نے پولیس کے مرکز میں داخلے ہونے کے بعد فائرنگ کی اور وہاں موجود اسلحہ اور گولہ بارود ساتھ لے گئے۔

افغانستان کے جنوبی علاقے میں طالبان جنگجووں کے ایک حملے میں کم از کم 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق حملہ بدھ کو جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ میں پولیس کے ایک مرکز اور چوکی پر کیا گیا۔

ضلعی حکومت کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حملہ آور پولیس کی وردیوں میں ملبوس اور سرکاری گاڑیوں پر سوار تھے جو محافظوں کو دھوکا دے کر پولیس مرکز میں داخل ہوئے۔

حملہ آوروں نے پولیس کے مرکز میں داخلے ہونے کے بعد فائرنگ کی اور وہاں موجود اسلحہ اور گولہ بارود ساتھ لے گئے۔

عہدیدار کے مطابق پولیس مرکز پر حملے میں 14 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جب کہ حملہ آوروں نے مرکز سے واپسی پر راستے میں پڑنے والی ایک پولیس چوکی پر بھی فائرنگ کی جس سے کم از کم ایک اہلکار مارا گیا۔

گورنر ہلمند کے ترجمان عمر ذوق نے حملے میں نو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

جنوبی افغانستان میں طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے صحافیوں کو بھیجے جانے والے ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے حملے میں دو افسران سمیت 12 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جن کے ہتھیار جنگجو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان میں سکیورٹی فورسز اور عوامی مقامات پر طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے جسے تجزیہ کار طالبان تحریک کے سربراہ ملا عمر کی موت اور اس کےنتیجے میں طالبان میں قیادت کی تبدیلی کا ردِ عمل قرار دے رہے ہیں۔

پیر کو اپنے ایک بیان میں افغان صدر اشرف غنی نے ملک میں ہونے والے حالیہ حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی حدود میں موجود طالبان جنگجووں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرے۔

پاکستان کی حکومت نے افغان صدر کے مطالبے کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے اور افغانستان میں ہونے والے حالیہ حملوں پر "گہرے دکھ اور افسوس" کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے لیکن افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں ہر ممکن تعاون کرنا چاہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG