رسائی کے لنکس

افغانستان: طالبان کے حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک


فائل

فائل

طالبان جنگجوؤں نے مشرقی صوبے پکتیا میں بارودی سرنگوں کی صفائی پر مامور عملے کے 19 اہلکاروں کو اغوا کرلیا ہے۔

افغانستان میں ایک پولیس اسٹیشن پر طالبان کے حملے میں کم از کم تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ جنگجووں نے بارودی سرنگیں صاف کرنے پر مامور 19 اہلکاروں کو اغوا کرلیا ہے۔

حکام کے مطابق پولیس کی وردیوں میں ملبوس حملہ آوروں نے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے ایک تھانے پر حملہ کیا جس میں تین اہلکار مارے گئے۔

صوبائی پولیس کے نائب سربراہ پراچہ گل بختیار کےمطابق جنگجو ؤں نے تھانے میں داخل ہونے کے بعد اندھادھند فائرنگ شروع کردی تھی جس کے باعث پولیس اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔

افغان فوج نے موسمِ بہار کے آغاز پر ہلمند میں طالبان کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی جو تاحال جاری ہے۔

دریں اثنا طالبان جنگجوؤں نے مشرقی صوبے پکتیا میں بارودی سرنگوں کی صفائی پر مامور عملے کے 19 اہلکاروں کو اغوا کرلیا ہے۔

پکتیا کے نائب گورنر عبدالولی ساہی نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ اہلکار صوبائی دارالحکومت گردیز کے نزدیک ایک علاقے کا معائنہ کر رہے تھےجب جنگجو انہیں اغوا کرکے ساتھ لے گئے۔

مغوی اہلکار ایک نجی کمپنی 'اسٹرلنگ ڈی مائننگ افغانستان' کے ملازم تھے جو افغانستان کے کئی علاقوں میں بارودی سرنگیں کی صفائی کر رہی ہے۔

نائب گورنر نے بتایا کہ طالبان مغویوں کو ضلع زرمت کی جانب لے گئے ہیں جس کا بیشتر علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مغویوں کو علاقہ مشران اور قبائلی رہنماؤں کے ذریعے رہا کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

افغانستان میں حالیہ مہینوں کے دوران اغوا کی وارداتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث کئی بااثر، غیر ملکی اداروں سے وابستہ اور ملازمت پیشہ افراد شاہراہوں پر سفر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جنگجووں نے جنوبی افغان صوبے غزنی سے ہزارہ نسل کے چار افراد کو اغوا کیا تھا جن کی بعد ازاں سر بریدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

اس سے قبل رواں سال فروری میں بھی دو بسوں میں سوار 31 ہزارہ افرادکو جنگجووں نے اغوا کرلیا تھا جو تاحال لاپتا ہیں۔

XS
SM
MD
LG