رسائی کے لنکس

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہیبت اللہ اخونزادہ کو جنگی تجربہ تو نہیں البتہ اُنھیں طالبان میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

طالبان کے نئے سربراہ مولوی ہیبت اللہ ایک مذہبی شخصیت ہیں اور وہ طالبان کے عدالتی نظام کے چیف جسٹس کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

وہ طالبان کی تحریک کے حق میں جب کہ افغان حکومت اور افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے خلاف فتوے اور بیانات دیتے رہے ہیں۔

ہیبت اللہ اخونزادہ کی عمر لگ بھگ 50 سال بتائی جاتی ہے اور اُن کا تعلق بھی افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع پنجوائی سے ہے۔

اُن کا تعلق نورزئی قبیلے سے ہے، واضح رہے کہ قندھار افغان طالبان کا مرکز تصور کیا جاتا ہے اور طالبان کے بانی ملا عمر اور حال ہی میں مارے جانے والے ملا منصور کا تعلق بھی اسی صوبے سے تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہیبت اللہ اخونزادہ کو جنگی تجربہ تو نہیں البتہ اُنھیں طالبان میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بریگیڈئیر ریٹائرڈ سعد محمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مولوی ہیبت اللہ کا ’’عسکری تجربہ نہیں ہے یہ عالم تصور کیے جاتے ہیں اور وہ طالبان کو دین کے حوالے سے مشورے دیا کرتے تھے۔‘‘

دفاعی تجزیہ کار اور سابق بریگیڈیئر اسد منیر کہتے ہیں کہ ابھی یہ دیکھنا ہو گا کہ طالبان کے دیگر کمانڈروں کا اس پر ردعمل کیا ہو گا۔

’’دیکھتے ہیں کہ ذاکر قیوم کیا کہتے ہیں، ملا اختر رسول کیا بولتا ہے۔۔۔۔ یہ لوگ مانیں گے تو (ہیبت اللہ) اُن (طالبان ) کو متحد رکھ سکے گا، لیکن میرا خیال ہے اب (طالبان) فورس کمزور ہو گی۔‘‘

مولوی ہیبت اللہ کے بارے میں اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اُن کا عسکری تجربہ نہیں لیکن اُن کے دونوں نائیبین جنگی تجربہ رکھتے ہیں۔

دو نائبین میں سے سراج الدین حقانی، طالبان کے مارے جانے والے سربراہ ملا منصور کے نائب کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

سراج الدین طالبان کے حقانی نیٹ ورک کی قیادت بھی کر رہے ہیں، باور کیا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں افغان اور بین الاقوامی فورسز پر مہلک حملوں میں ملوث رہا ہے۔

ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو بھی طالبان کے نئے سربراہ مولوی ہیبت اللہ کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔ ملا یعقوب افغانستان کے 34 صوبوں میں سے 15 صوبوں میں طالبان کی عسکری سرگرمیوں کے انچارج ہیں۔

XS
SM
MD
LG