رسائی کے لنکس

طالبان گروپو ں سے مذاکرات کی حکمت عملی


طالبان

طالبان


افغانستان پر امریکی حملے کے آٹھ سال کے بعد عالمی برداری پہلی بار اس بات کے حق میں ہے کہ طالبان کے کچھ لوگوں سے بات چیت کی جائے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنےآیاہے جب کئی ممالک لندن میں افغانستان کے مسائل پر مذاکرات کے لیے ایک کانفرنس میں جمع ہوئے ہیں۔ پاکستان اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بننا چاہتا ہے۔

لندن کانفرنس میں عالمی راہنماؤں نے صدر حامد کرزنی کی اس تجویز کی تائید کی کہ طالبان کے کم ازکم کچھ لوگوں سے بات چیت ضروری ہے۔ اس تجویز کی تائید پاکستانی صدر آصف علی زرداری بھی کرتے ہیں۔

تاہم اسی دوران پاکستانی فوج جنوبی وزیر ستان میں ان طالبان سے لڑائی میں مصروف ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن افغانستان میں اتحادی کمانڈر ز چاہتےہیں کہ پاکستان افغان طالبان اور القاعدہ کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کرے۔ ان کے خیال میں شمالی وزیرستان میں موجود یہ عناصر افغانستان میں عدم استحکام کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان کے اپنے حالیہ دورے میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اندورنی اور بیرونی طالبان میں تخصیص نہیں کرنی چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ سرحد کے آرپار طالبان کی پناگاہوں سے دونوں ملکوں میں خطرناک حملے بڑھیں گے اور سویلین اموات میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان نئے محاذ کھولنے سے پہلے اپنی حالیہ کامیابیوں کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ سرحد کے ساتھ ساتھ اتحادیوں اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرآپ شمالی وزیر ستان میں جاتے ہیں اور خوست اور پاکتیا میں افغان آرمی اور نیٹو کی افواج موجود نہ ہوں تو کامیابی کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے۔

امریکی اور برطانوی حکام نے لندن میں ان معاملات پر بات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں استحکام ہونا ضروری ہے خصوصاً جب کہ افغانستان میں مزید افواج بھیجی جارہی ہیں۔ نیٹو کی تقریباً70 فی صد سپلائی ان ہی علاقوں سے گذرتی ہیں، مثلاً خیبر۔وہ کہتے ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں کارروائی سے خبیر کی طرف انخلا بڑھ رہاہے۔ جس سے یہ راستہ مزید خطرناک ہورہاہے۔

نجم الدین شیخ سمیت کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کا کردار ان معاملات کوسدھارنے کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن کانفرنس اس معاملے میں معاون ثابت ہوگی۔

بہت سے جنگ جو انہی حالات میں پیدا ہوئے تھے، اور جب تک انہیں پرکشش پیش کش نہیں کی جائے گی، وہ اسی طرح لڑتے رہیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ خطہ صدر اوباما کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ کا کہناہے کہ عالمی برادری کو خطے میں امن لانے کے لیے سیاسی معاملات اور فوجی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG