رسائی کے لنکس

طالبان کا زلزلے سے متاثرہ شمالی افغان صوبہ تخار میں ضلع پر قبضہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام نے بتایا کہ جنگجوؤں نے تاجکستان کی سرحد پر واقع تخار صوبے کے ضلعی دارالحکومت درقند پر بدھ کی صبح قبضہ کر لیا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے زلزلے سے متاثرہ شمالی افغانستان میں ایک ضلع پر قبضہ کر لیا ہے جسے چھڑانے کے لیے سرکاری فورسز کوشش میں مصروف ہیں۔

حکام نے بتایا کہ جنگجوؤں نے تاجکستان کی سرحد پر واقع تخار صوبے کے ضلعی دارالحکومت درقد پر بدھ کی صبح قبضہ کر لیا۔

اس دوران جانی نقصان کے بارے میں دونوں جانب سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

طالبان نے اس سال حکومت کے خلاف اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ ستمبر کے اواخر میں طالبان نے صوبہ قندوز کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا جسے افغان فورسز نے کئی روز تک سخت لڑائی کے بعد واپس حاصل کیا تھا۔

درقد میں طالبان کا حملہ افغانستان کے شمالی علاقہ جات میں زلزلہ متاثرین تک امداد پہنچانے کی راہ میں حائل روکاٹوں کی غمازی کرتا ہے۔

درقد کے گرد علاقے میں پیر کو آنے والے زلزلے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ مگر تخار صوبہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہے اور پورے صوبے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

طالبان نے منگل کو کہا تھا کہ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امداد پہنچانے سے نہ ڈریں مگر متواتر لڑائی سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں کہ امدادی کارکن کس طرح بحفاظت ان علاقوں میں کام کر سکیں گے۔

پیر کو آنے والے زلزلے سے افغانستان میں کم از کم 115 ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

زلزلے سے ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور سخت سردی کے موسم میں ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں ان علاقوں میں عارضی پناہ گاہوں کا انتظام کرنا اور طبی امداد پہنچانا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔

حکام نے نقصان کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے سروے ٹیمیں روانہ کر دی ہیں جو دور دراز علاقوں میں صرف پیدل پہنچ سکتی ہیں۔

امن وامان کی مخدوش صورتحال کے علاوہ مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں بند ہو گئی ہیں اور بہت سے علاقوں میں مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے جہاں ہزاروں گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

حکام نے کہا ہے کہ تخار صوبے کو قندوز، جلال آباد اور کابل سے ملانے والی دو سڑکوں سے مٹی کے تودوں کا ملبہ ہٹا کر انہیں کھول دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG