رسائی کے لنکس

افغان طالبان کی روس کے ساتھ رابطوں کی تردید


فائل

فائل

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کو داعش کے خلاف کسی سے مدد لینے کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی اس بارے میں کسی سے کوئی رابطہ یا بات چیت ہوئی ہے۔

افغان طالبان نے کہا ہے کہ ان کے نمائندوں اور روس کی حکومت کے درمیان داعش کے مسئلے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

اتوار کو ایک بیان میں افغان طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان تحریک خطے کے ممالک سے رابطے میں ہے لیکن داعش کےخلاف کسی سے مدد لینے کے معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "اماراتِ اسلامیہ" اپنے ملک سے امریکی تسلط کے خاتمے کے لیے ماضی میں بھی خطے کی حکومتوں سے رابطے میں رہی ہے جو مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔

تاہم، ترجمان کے بقول، طالبان کو داعش کے خلاف کسی سے مدد لینے کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی اس بارے میں کسی سے کوئی رابطہ یا بات چیت ہوئی ہے۔

برطانوی اخبار 'سنڈے ٹائمز' نے رواں ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں ایک سینئر طالبان کمانڈر کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ستمبر میں افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے داعش کے خلاف طالبان کو مدد دینےکی پیشکش کی تھی۔

اخبار نے دعویٰ کیا تھاکہ روسی صدر اور افغان طالبان کے سربراہ کے درمیان ملاقات تاجکستان کی ایک فوجی چھاؤنی میں رات کے کھانے پر ہوئی تھی۔

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ردِ عمل کے لیے اخبار کی جانب سے رابطہ کرنے پر روسی حکومت کے ایک ترجمان نے اس خبر کو "غیر متعلق" قرار دیتے ہوئے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

خیال رہے کہ افغان طالبان کے کئی جنگجو مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش میں شامل ہوچکے ہیں جس کے بعد افغانستان کے کئی علاقوں خصوصاً مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش اور طالبان کے مقامی جنگجووں کے درمیان شدید جھڑپوں اور لڑائی کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔

افغانستان میں داعش کے اثر و رسوخ میں اضافے کے امکان نے خطے کے ممالک کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

گزشتہ ہفتے روسی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے کہا تھا کہ داعش کے خلاف جنگ میں روس اور طالبان کے مفادات مشترک ہیں اور اس ضمن میں طالبان کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لیے روسی حکومت کی جانب سے رابطے قائم کیے جارہے ہیں۔

روسی فضائیہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں گزشتہ چند ماہ سے داعش سمیت دیگر باغی تنظیموں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے جس کے جواب میں داعش نے روس سے بدلہ لینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ روس اور افغانستان کے درمیان موجود وسطِ ایشیا کے مسلم ممالک کے سیکڑوں باشندے داعش میں شامل ہو کر شام اور عراق میں لڑرہے ہیں جو اپنے آبائی ممالک واپس آکر مقامی حکومتوں اور روس کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG