رسائی کے لنکس

اثرورسوخ بڑھانے کے لیے افغان طالبان کی نئی حکمت عملی: رپورٹ


قندوز میں طالبان جنگجو (فائل فوٹو)

امریکی فورسز کے مطابق مغرب کی حمایت یافتہ کابل حکومت اس وقت ملک کے 60 فیصد سے بھی کم حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے اپنے زیر تسلط صوبوں میں اثر و رسوخ کو بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جرمن خبر رساں ایجنسی "ڈی پی اے" کو بتایا کہ عسکریت پسند آنے والے دنوں میں جنوب میں ہلمند اور اورزگان، شمال میں سرِ پل اور قندوز اور مغرب میں فرح اور فریاب صوبوں میں اپنے حاصل کردہ اہداف کو مزید مستحکم کریں گے۔

امریکی فورسز کے مطابق مغرب کی حمایت یافتہ کابل حکومت اس وقت ملک کے 60 فیصد سے بھی کم حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ نئی حکمت عملی کے تحت طالبان صوبوں کے مابین متحرک رہنے والی یونٹس کی بجائے صوبائی سطح پر کمانڈز متعین کریں گے۔

ان کے بقول عسکریت پسندوں کی توجہ صوبائی دارالحکومتوں پر تسلط قائم کرنے پر ہوگی۔

دریں اثناء افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے "ڈی پی اے" کو بتایا کہ افغان فورسز عسکریت پسندوں کو ان کے مضبوط ٹھکانوں سے باہر دھکیلنے پر توجہ دے گی۔

ان کے بقول اس سلسلے میں فوج کی ایلیٹ فورسز کی استعداد کار بڑھانے سمیت مختلف اقدام کیے جائیں گے اور 2020ء تک فورسز کی تعداد کو دوگنا کر دیا جائے گا۔

اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈرز یہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں طالبان جنگجوؤں سے لڑائی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے۔

2014ء کے اواخر میں تمام لڑاکا بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے جنگ سے تباہ حال اس ملک میں لگ بھگ 8400 امریکی فوجی اور چند ہزار نیٹو فوج موجود ہیں لیکن سلامتی کی ذمہ داریاں بنیادی طور پر افغان سکیورٹی فورسز ہی نبھا رہی ہیں جنہیں طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG