رسائی کے لنکس

مذاکراتی ٹیم کے لئے دو سینئر صحافیوں اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کے نام زیرِ غور ہیں: ترجمان، کالعدم تحریکِ طالبان; ادھر، سرکاری ذرائع کے حوالے سے، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے قائم حکومتی کمیٹی کا اجلاس منگل کی دوپہر طلب کیا گیا ہے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف پاکستان کے رہنما عمران خان اور جمعیت علمائے پاکستان ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے انکار کے بعد، مذاکراتی ٹیم کے لئے دو سینئر صحافیوں اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کے نام زیر غور ہیں۔

اِس بات کا اعلان تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے پیر کو کیا۔

انصار عباسی نے پیر کی رات ایک نجی ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مذاکراتی ٹیم کا رکن بننے کے حوالے سے طالبان سے کوئی گفتگو یا رابطہ نہیں ہوا ۔

انصار عباسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حکومتی کمیٹی کے قیام سے قبل انہیں حکومتی کمیٹی کا رکن بننے کی پیشکش کی تھی لیکن، انہوں نے معذرت کرلی تھی۔

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ وہ صرف غیر جانبدار کمیٹی کی نمائندگی کرنے پر آمادہ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریق کسی غیر جانبدار کمیٹی کو قبول کریں، تو انہیں بھی اس کا حصہ بننا منظور ہوگا۔

ادھر سرکاری ذرائع کے حوالے سے مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے قائم حکومتی کمیٹی کا اجلاس منگل کی دوپہر طلب کیا گیا ہے جس میں طالبان کی نامزد کمیٹی سے باضابطہ ملاقات اور مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ متوقع ہے۔

مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ وزیراعظم ہاوٴس اسلام آباد میں قائم کمیٹی کے دفترمیں ہوگا جس میں وفاقی وزیر چوہدری نثارعلی خان کی شرکت بھی متوقع ہے۔
XS
SM
MD
LG