رسائی کے لنکس

طالبان سے مذاکرات کے لیے سعودی عرب کا اثرو رسوخ استعمال کرنے کی کوشش

  • ندیم یعقوب

افغانستان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے حوالے سے لندن کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنے لیے اقدامات شروع کردیے گئے ہیں ۔ پانچ اہم طالبان راہنماؤں کے نام دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے اور انہیں مذاکرات کے سلسلے میں پیش رفت کی جارہی ہے۔ سعودی عرب، نوے کے عشرے میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے تین ممالک میں شامل ہے، کئی تجزیہ کاروں کے مطابق بعض طالبان گروپوں پر اس کا اب ابھی اثرورسوخ ہے۔ واشنگٹن میں قائم امریکی تھینک ٹینک نیوامریکہ فاؤنڈیشن کے دہشت گردی امور کے ایک ماہر برائین فش مین نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔

برائین فش مین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ بات چیت میں اپنا کردار ادا کرے اور انہیں ایسا کرنا بھی چاہیے۔ نہ صرف اس لئے کہ وہ مالی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ ان کے طالبان اور پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے ساتھ دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں جن کو وہ سیاسی دباؤکے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ افغان طالبان سے روابط اور بات چیت میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کچھ افغان طالبان عناصر کسی قسم کے مذاکرات کے لئے تیار ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے ۔ ایسی کوشش کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔

برائین فش مین سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرسکے گا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکہ طالبان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اپنے لئے وہاں سے نکلنے کا راستہ بنا رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس اقدام کا یقینا ً ایک مقصد وہاں ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا اور خطے کے سکیورٹی مفادات کو تحفظ دینا ہے۔ امریکہ آج ستمبر کے واقعات کی وجہ افغانستان میں موجود ہے۔ اور امریکہ کے افغانستان پر قبضہ کرنے کی اصل وجہ ہاں القاعدہ کی موجودگی تھی۔ جب ہم بنیادی مقاصد کی بات کرتے ہیں تو ہمیں عالمی سطع پر القاعدہ اور اس کے خطرات کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ اپ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو لڑ سکتے ہیں ۔ آپ افغان طالبان کو حکومت میں شامل تو کر سکتے ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ القاعدہ کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ القاعدہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجود ہےاور وہاں چھپنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم افغانستان میں حقیقی معنوں میں ایسا نظام چاہتے ہیں جو افغان عوام کے لئے قابل عمل ہو اور القاعدہ کے خلاف ڈھال کا کام کریں ۔ افغان اور پاکستانی عوام اپنے علاقوں میں القاعدہ کی موجودگی نہیں چاہتے۔

اس سوال کے جواب میں کیاآپ سمجھتے ہیں کہ صدر حامد کرزئی طالبان کے کچھ عناصر کو القاعدہ اور طالبان کے رہنماوں سے الگ کر کے سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ مجھے علم نہیں ۔ یہ ایک گھمبیر سوال ہے۔ میرا خیال ہے کہ کچھ اشارے مل رہے ہیں۔ اور جس طرح وہ لندن کانفرنس میں گئے وہ بھی اچھا تھا۔ کیونکہ میرا خیال ہے کہ وہ ٹھوس تجاویز اور تیاری کے ساتھ وہاں گئے ۔ اس میں انہیں امریکہ کی کچھ حمایت حاصل ہے۔ ساتھ ہی میں یہ کہوں گا کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صدر کرزئی کی صلاحیتوں کی وجہ سے ہے۔ اور اب پورے ملک میں حکومت کے کام کرنے کی صلاحیت کو بہتر کیا جارہاہے۔ میرے خیال میں طالبان کی اعلی قیادت اور نچلے درجے کے طالبان عناصر میں تفریق کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر نچلی سطع پر کام کرنے والے طالبان اعلی قیادت سے قدرے الگ ہوتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا نئی حکمت عملی کے تحت طالبان سے روابط کئے جا رہے ہیں ۔ اس حکمت عملی سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا، فش مین نے کہا کہ میرے خیال ٕمیں یہ اہم ہوگا کہ پاکستان طالبان کی سیاسی نظام میں شمولیت کی حمایت کرے۔ پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت کی تھی۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ اب بھی پاکستان کسی نہ کسی طرح طالبان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اور افغانستان میں اپنی سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کے جو خدشات ہیں وہ بالکل جائز ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ اگر ہم افغان عوام کی خواہشوں کے مطابق ایک ایسا حکومتی ڈھانچہ کھڑا کر سکیں جس میں القاعدہ راہنماؤں کے بغیر افغان طالبان کی بڑی تعداد شامل ہو تو پاکستان کو ایسے نظام کی حمایت کرنی چاہیے۔

برائین فش مین سے آخری سوال یہ تھا کہ طالبان کو سیاسی دھارے میں شامل کرنا اوباما انتظامیہ کی افغانستان کے لئے نئی حکمت عملی میں کتنی اہمیت رکھتا ہے، انہوں نے کہا کہ میرے خیال یہ بے حد اہم ہے۔ کیونکہ افغان عوام کے درمیان مفاہتت تو آخر کار ہونی ہی ہے۔ امریکہ اور بین الاقوامی برادری مفاہمت کے اس عمل میں مدد دے سکتے ہیں۔ مگر اس عمل کا عوام کی امنگوں کا عکاس ہونا بے حد ضروری ہے۔ حکومت اور طالبان کو اس عمل پر اور ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہیے۔ امریکہ اور عالمی برادری ہمیشہ تو افغانستان میں نہیں رہ سکتی۔ اس لئے افغانستان کا خود سے ایک حل نکالنا ضروری ہے۔ اور امریکہ مفاہمتی عمل سے باہر رہنے والوں کو شکست دینے میں افغان حکومت کی مدد کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG