رسائی کے لنکس

تانیہ کا کہنا ہے کہ موسیقی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور دلوں کی دوریاں گھٹانے کا ایک ذریعہ ہے۔

گل رخ

حالیہ عرصے میں موسيقى کی دنیا میں ابھرنے والا ایک نیا نام تانیہ ولز کا ہے جنہیں پاک و ہند کے گلوکاروں کے گائے ہوئے نغمے، گیت اور غزلیں سن کر گنگنانے اور اس شعبے میں آنے کا شوق پیدا ہوا۔

تانیہ کا تعلق برطانیہ کے شہر لندن سے ہے ، لیکن وہ بہت چھوٹی عمر میں بھارت چلی گئی تھیں اور انہوں موسیقی کی تعلیم وہاں سے حاصل کی۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بھارت میں جانے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ وہ جنوبی ایشیا کی مختلف ثقافتوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ارود کے ساتھ ساتھ ہندی زبان بھی سیکھی۔ اور موسیقی کی باریکیوں اور اس فن کے اسرارو رموز سے آشنائی حاصل کی۔

تانیہ ولز گلوکارہ

تانیہ ولز گلوکارہ

تانیہ کہتی ہیں کہ لندن واپس آنے کے بعد انہوں نے ایک بھارتی میوزک اکیڈمی میں داخلہ لیا اور اس خطے کی موسيقى سیکھنا شروع کی۔

تانیہ نے بتایا کہ یہ فن سیکھنا کچھ آسان کام نہیں ہے اس کے لیے طویل ریاضیت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہم استاد کے ساتھ بیٹھ کر مختلف گلوکاروں کی غزلیں بار بار دوہراتے تھے۔ غزل کی ریاضیت کرتے ہوئے ان کی دلچسپی کلاسیکی موسیقی میں بڑھنے لگی اور وہ اس جانب بھی توجہ دینے لگیں۔

تانیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اردو اپنے دوستوں سے سیکھی۔ لیکن ان کے دوست صرف اردو بولتے ہیں نہیں تھے بلکہ انہیں الفاظ کی صحت کے ساتھ ادائیگی اور اس کے تلفط کا بھی بخوبی علم تھا۔ جس سے انہیں اپنی اردو بہتر بنانے میں مدد ملی۔

تانیہ کو فریدہ خانم کی گائی ہوئی غزلیں بہت پسند ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی آواز بھی بہت اچھی ہے۔

تانیہ مستقبل میں موسیقی جاری رکھتے ہوئے اپنے فن میں نکھار پیدا کرنے کی خواہش مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسیقی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور دلوں کی دوریاں گھٹانے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ اپنے فن کو قربتیں پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

وہ مستقبل میں پاکستان جانے کا ارارہ رکھتی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG