رسائی کے لنکس

ترکمانستان سے درآمد کی جانے والی قدرتی گیس کے بڑے حصے سے بھارت اور پاکستان میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ ان دونوں ملکوں میں توانائی کی ضروریات میں 2030ء تک دو گنا اضافے کا امکان ہے۔ باقی کی گیس سے بجلی کی شدید قلت کا شکار افغانستان کی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔

ترکمانستان سے جنوبی ایشیا کے ممالک کو قدرتی گیس کی برآمد کے لیے مجوزہ 1,800 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کے معاہدے پر 20 سال سے زائد عرصے سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر فریقین نے دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد یہ منصوبہ شرمندہ تعبیر ہونے کے قریب تر پہنچ گیا ہے۔

ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کو آپس میں جوڑنے والی ٹیپی پائپ لائن کے ذریعے گیس کی خرید و فروخت کے سمجھوتے پر بھارتی سرکاری کمپنی ’گیل لمیٹڈ‘ اور پاکستانی ’انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ نے بدھ کو ترکمانستان کے ساتھ دستخط کیے جس کے تحت تینوں ملکوں کو مجموعی طور پر اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 9 کروڑ مکعب میٹر قدرتی گیس فراہم کی جائے گی۔

افغانستان نے بھی ترکمانستان کے ساتھ گیس کے شعبے میں طویل المدت معاہدے پر دستخط کیے جب کہ توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان گیس کی خرید و فروخت سےمتعلق سمجھوتہ بھی جلد طے پا جائے گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اس پیش رفت کو ’’حقیقی معنوں میں علاقائی تعلقات میں ایک بے مثال نیا باب اور تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا ہے۔

ترکمانستان سے درآمد کی جانے والی قدرتی گیس کے بڑے حصے سے بھارت اور پاکستان میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ ان دونوں ملکوں میں توانائی کی ضروریات میں 2030ء تک دو گنا اضافے کا امکان ہے۔ باقی کی گیس سے بجلی کی شدید قلت کا شکار افغانستان کی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔

اے ڈی بی کے وسطی اور مغربی ایشیا سے متعلق شعبے کے ڈائریکٹر جنرل کلاز گرہاسر نے کہا ہے کہ ٹیپی منصوبے پر مذاکرات کو ممکن بنانے اور ان میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ان کے بینک نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔

’’ٹیپی سے منسلک ہر ملک کے لیے یہ پائپ لائن ایک فائدے کا سودا ہے کیونکہ اس سے دنیا میں قدرتی گیس کے چوتھے بڑے ذخیرے ترکمانستان کو نئی منڈیاں ملیں گے جب کہ توانائی کی متلاشی جنوب (کے ملکوں) کی معیشتوں کو ایندھن میسر آئے گا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ہر ملک کے لیے مفید ثابت ہوگا جس سے یہ نا صرف ’’امن کی پائپ لائن‘‘ بلکہ خوشحالی کی طرف گامزن پائپ لائن بھی بن جائے گی۔

اے ڈی بی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیپی میں شامل ملکوں کے لیے اگلا قدم اس منصوبے کی جانب کمرشل شراکت داروں کو مائل کرکے پائپ لائن کی تعمیر اور اسے فعال بنانے کے لیے مالی وسائل کا حصول ہے۔

2008ء کے تخمینوں کے مطابق پائپ لائن بچھانے پر 7.6 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ ترکمانستان اس وقت روس، ایران اور چین کو گیس برآمد کر رہا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG