رسائی کے لنکس

حرکت المجاہدین کے بانی سمیت تین افراد پر پابندیاں


امریکی محکمہ خزانہ

امریکی محکمہ خزانہ

امریکہ کے محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق فضل الرحمٰن خلیل کے علاوہ جن دو دیگر افراد کے نام اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں اُن پر الزام ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

امریکہ نے ’شدت پسند‘ تنظیم حرکت المجاہدین کے سربراہ فضل الرحمان خلیل سمیت تین پاکستانی شہریوں پر تعزیرات عائد کرتے ہوئے اُن کے تمام اثاثے منجمد کر دیئے ہیں۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق فضل الرحمٰن خلیل کے علاوہ جن دو دیگر افراد کے نام اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں اُن پر الزام ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

یہ دونوں افراد محمد نعیم شیخ اور عمیر نعیم شیخ نجی کمپنیوں کی مالک ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق اس نئے فیصلے کے تحت ان تینوں افراد کے امریکہ یا اس کے زیر کنٹرول اداروں میں تمام اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ امریکی شہریوں پر ان افراد سے کسی طرح مالی لین دین پر پابندی ہو گی۔

محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق حرکت المجاہدین اور لشکرِ طیبہ تشدد پسند دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو القاعدہ سمیت کئی شدت پسند تنظیموں کی مدد اور شدت پسندوں کو تربیت کی فراہمی میں ملوث ہیں۔

حرکت المجاہدین کو امریکہ نے 1997 میں بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ فضل الرحمٰن خلیل حرکت المجاہدین کے بانی ہیں۔

محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق فضل الرحمٰن خلیل کا القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے قریبی رابطہ بھی رہا ہے۔

جن دیگر دو افراد، محمد نعیم شیخ اور عمیر نعیم شیخ‘ پر شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کو مالی معاونت فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اُن کی لاہور میں نجی کمپنیاں ہیں۔

محمد نعیم شیخ ’عبدالحمید شہاب الدین یعنی (اےایچ ایس ڈی)‘ کے مالک ہیں جب کہ عمیر نعیم شیخ کی کمپنی کا نام ’نیا انٹرنیشنل‘ ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق محمد نعیم شیخ گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے لشکر طیبہ کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG