رسائی کے لنکس

کم بجلی استعمال کرنے والوں پر بوجھ نہیں ڈالیں گے: پرویز رشید


وزیر اطلاعات کے بقول مستقبل میں صارفین کی سہولت کے لیے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، اور خام تیل کے بجائے کوئلے جیسے نسبتاً سستے ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ کم آمدن والے طبقے کو مالی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی جاری رکھے گی۔

اُن کے بقول اس رعایت سے سرکاری خزانے پر 170 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

پرویز رشید نے سرکاری میڈیا سے پیر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ مستقبل میں صارفین کی سہولت کے لیے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، اور خام تیل کے بجائے کوئلے جیسے نسبتاً سستے ایندھن سے چلنے والے بجلی گھروں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نواز شریف اور اُن کی کابینہ کے وزراء حالیہ دنوں میں یہ باور کراتے آئے ہیں کہ بجلی کی پیداواری لاگت اور صارفین کے لیے طے کردہ رِعایتی نرخوں میں نمایاں فرق کی وجہ سے قومی خزانے پر مسلسل بوجھ پڑ رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس فرق کو بتدریخ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پرویز رشید (فائل فوٹو)

پرویز رشید (فائل فوٹو)


پرویز رشید نے بتایا کہ چین نے پاکستان میں توانائی کے بحران میں کمی کے لیے بلوچستان کی ساحلی پٹی پر کوئلے سے چلنے والے چار بجلی گھر لگانے پر اتفاق کیا ہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2,400 میگا واٹ ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پن بجلی منصوبوں پر بھی غور کر رہی ہے لیکن اس نوعیت کے نئے منصوبوں کی تکمیل کے لیے طویل عرصہ درکار ہوگا۔

اُدھر پنجاب حکومت نے اپنے طور پر چینی کمپنی ’’زیڈ ٹی ای‘‘ کے ساتھ شمسی توانائی کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔

لاہور میں اتوار کو اس سلسلے میں معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت چولستان کے صحرائی علاقے میں لگائے جانے والے منصوبے سے ابتدا میں 300 میگا واٹ بجلی حاصل ہو سکے گی۔ مستقبل میں اس منصوبے کی پیداواری صلاحیت 500 میگا واٹ تک بڑھا دی جائے گی۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل ہوگا، تاہم اس پر تعمیراتی کام کے افتتاح کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اگرچہ اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق دیکھائی دیتے ہیں کہ مالی بحران میں کمی کے لیے بجلی اور ایندھن کی قیمتوں پر دی جانے والی رعایت کا خاتمہ ضروری ہے، تاہم ماضی میں نرخوں میں کیا گیا اضافہ حکومتِ وقت کی سیاسی مقبولیت میں کمی کی وجہ بنتا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG