رسائی کے لنکس

اگر آپ دولت مند ہیں تو آپ کی آمدنی پر کس حساب سے ٹیکس لاگو کیا جانا چاہیے؟ یہ سوال صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ امریکہ میں بھی اٹھایا جا رہا ہے ، جہاں بجٹ کا خسارہ کم کرنے کے صدر اوباما کے منصوبے میں بفٹ رول نامی دولت مندوں پر ٹیکس بڑھانے کا ایک پروگرام بھی شامل ہے۔ دولت مند امریکی سرمایہ کار وارن بفٹ کے نام سے اس منصوبہ کے تحت اُن لوگوں پر ٹیکس بڑھایا جا سکے گا جو ہر سال دس لاکھ ڈالر سے زیادہ کماتے ہیں۔آپ کو یہ جان کر شاید بالکل تعجب نہیں ہوگا کہ امریکہ میں کئی سرمایہ داراس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

بفٹ رول اس وقت مقبول ہوا جب دولت مند سرمایہ کار وارن بفٹ نے 17 فی صد کے اپنے ٹیکس ریٹ کا اپنی سیکرٹری کے ٹیکس ریٹ سے موازنہ کیا، جو 29 فی صد تھا۔

ان کا کہناہے کہ مجھ جیسے لوگوں کو کو زیادہ ٹیکس دینا چاہیے۔

صدر اوباما بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت دس لاکھ ڈالر سالانہ سے زیادہ کمانے والوں کو اپنی آمدنی کا کم از کم 30 فی صد حکومت کو برائے ٹیکس دینا ہو گا۔

لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دولت مندوں پر ٹیکس بڑھا کر بجٹ کا خسارہ کم کرنے کے اس منصوبے کے سبھی متفق ہوں گے۔ تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ اس منصوبے کی تنقید کرنے والوں میں صدر اوباما کے حزب اختلاف کی ری پبلیکن پارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں، جن کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے نوکریاں کم ہو سکتی ہیں۔

ریاست ایری زونا کے سینیٹر جان کائل نے اس ہفتے سینیٹ میں بفٹ رول پر ایک بل کے خلاف ووٹ دینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے میں خوب سرگرم تھے۔ ان کے مطابق بفٹ رول دولت مندوں کے خلاف صدر اوباما کا ایک حملہ ہے۔

ان کا کہناتھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو کچھ لوگوں سے زیادہ ٹیکس لینا چاہیے صرف اس لیے کیونکہ وہ زیادہ دولت مند ہیں۔ خواہ اس طرح ٹیکس بڑھانے سے معیشت کو نقصان کیوں نہ ہو۔

جب کہ ایک اور سرمایہ کار وٹنی ٹل سن کا کہناہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک منصفانہ اور عام فہم بات ہے۔ اگر میری سیکرٹری مجھ سے 36 فی صد زیادہ ٹیکس دیتی ہے، جبکہ میں اس سے 39 گنا زیادہ کماتا ہوں۔ تو کون اسے صحیح مانے گا۔ یہ حقیقت سامنے لانا دولت مندوں پر حملہ نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG