رسائی کے لنکس

تپِ دق کی تشخیص، ایک گھنٹے میں؟

  • شہناز عزیز

ٹی بی ویکسین

ٹی بی ویکسین

برطانیہ کی ہیلتھ پریکٹس ایجنسی نے، جِس نے یہ نیا ٹیسٹ کیا ہے، بتایا ہے کہ وہ اِسے مارکیٹ میں لانے سے پہلے مزید آزمائش کرے گی

سائنس دانوں کے مطابق، ٹی بی کے مرض کی تشخیص ایک گھنٹے کے اندر ہو سکتی ہے، جس پیش رفت کے باعث تپِ دق کے مریضوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی ممکن ہوسکے گی۔

ساتھ ہی، برطانیہ کی ہیلتھ پریکٹس ایجنسی نے، جِس نے یہ نیا ٹیسٹ کیا ہے، بتایا ہے کہ وہ مارکیٹ میں لانے سے پہلے اِس پر مزید آزمائش کرے گی۔

تپِ دق کو غربت کی بیماری کہا جاتا ہے، اور یہ جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کے ذیلی سحارا کے علاقے میں پھیل رہی ہے۔

عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں آبادی کا ایک تہائی حصہ ٹی بی کے جراثیم کا شکار ہے۔ لیکن، پانچ میں سے دس فی صد یا تو بیمار ہوتے ہیں یا بیماری پھیلاتے ہیں۔

ایلسٹیئر ریڈ، اقوام متحدہ میں تپ دق اور ایچ آئی وی کے مشیر ہیں۔ اُنھوں نےبتایا ہے کہ تپ دق کی تیزی سے تشخیص اِس بیماری کے خلاف جنگ کے سلسلے میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اِس سے لیباریٹریزکےعملے کے لیےوقت کی بچت ہوگی جنِھیں روزانہ سلائیڈزکا جائزہ لینےاور ٹی بی کے جراثیم تلاش کرنے کی کوشش میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، اور اِس کے باعث ٹی بی کی بیماری کی وجہ سے موت کا خطرہ بھی بہت کم ہوجائے گا۔

اب تک، ٹی بی کی تشخیص کا سب سے قابلِ اعتماد طریقہ کسی مریض سے سیمپلز لے کر پھر اُن کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ آیا اُس میں ٹی بی کے جراثیم ہیں یا نہیں اور اِس عمل میں آٹھ ہفتے لگ جاتے ہیں۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG