رسائی کے لنکس

جدید ٹیکنالوجی عام افراد کے لیے حصول تعلیم آسان بناسکتی ہے


جدید ٹیکنالوجی عام افراد کے لیے حصول تعلیم آسان بناسکتی ہے
جدید ٹیکنالوجی عام افراد کے لیے حصول تعلیم آسان بناسکتی ہے

امریکی تعلیمی نظام کو دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار کیا جاتاہے اور ہر سال بڑی تعداد میں غیر ملکی طالب علم اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔ مگرگذشتہ چند برسوں میں معاشی بحران نے تعلیمی شعبے کو بھی متاثر کیا ہے اور مالی وسائل میں کمی کے باعث بہت سے نوجوانوں کے لیے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا ممکن نہیں رہا۔ تعلیمی ماہرین زیادہ سے زیادہ طالب علموں کی تعلیمی اداروں تک رسائی ممکن بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے مدد حاصل کرنے پرزور دے رہے ہیں۔

امریکی تعلیمی اداروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات نہ صرف غیر ملکی بلکہ مقامی طلبا کے لیے بھی اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو مشکل بنا رہے ہیں۔جس کی وجہ سے امریکہ میں ماہرین اب بنیادی تعلیمی ڈھانچے میں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک سینٹر فار امریکن پراگریس میں تعلیمی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں ہونے والی اس گفتگو میں اس بات پر بحث کی گئی کہ کاروباری اداروں کی طرح تعلیمی شعبے میں بھی جدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک امریکی ٹیکنالوجی فرم سے منسلک مارتھا لیبوسر کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں روایتی تعلیمی طریقہ کار کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

مباحثے میں شریک مارتھاکا کہناتھا کہ اس کی ایک مثال اساتذہ کی بجائے کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم دینا ہے۔ جہاں اساتذہ صرف طلبہ کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ میرے خیال سے اساتذہ کا یہ کردار ایک کلاس روم میں کھڑے ہو کر لیکچر دینے سے بہتر ہے۔

تعلیمی امور کے ماہر مائیکل ہورن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمارے تعلیمی ادروں میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال پہلے ہی موجود ہے اور بڑھ رہا ہے۔لیکن ہمیں اس سلسلے میں ان مقاصد کی نشاندہی کرنی ہے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔جن میں زیادہ سے زیادہ طلبہ کا گریجویشن تک پہنچنا ، غیر متعلقہ نصاب کا خاتمہ، اعلی تعلیم تک رسائی کو آسان بنانا اور ایک بزنس ماڈل کی طرز پر تعلیمی اداروں کا چلانا اہم ہے جہاں صرف منافع ہی حاصل کرنا مقصود نہ ہو۔

غیر ملکی طلبا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ریاست اوہائیو کی ایک یونیورسٹی کےسی ای او رابرٹ مین ڈینال کا کہنا تھا کہ غیر ملکی طلبا یہاں عام امریکیوں کی نسبت زیادہ فیسیں اور تعلیمی اخراجات کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن ایک جدید بزنس ماڈل سے ناصرف مقامی بلکہ غیر ملکی طلبا کو بھی فائدہ ہوگا۔

ان کا کہناتھا کہ میں امریکہ کی بات کروں تو یہاں کی اعلی ترین یونیورسٹیوں میں صرف امراء ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ عام امریکیوں کی ایک بڑی تعداد ان میں جانے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ لیکن جب تعلیم ہی آن لائن ہو تو سب کے لیے اس کی رسائی اور قیمت ایک جیسی ہوگی۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی شعبے کی طرف دھیان دینا حکومت کا ایک اچھا قدم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بزنس ماڈل کی طرز پر تعلیمی اداروں کا چلانا نہ صرف تعلیمی اداروں کے لیے بہتر ہے بلکہ اس سے یونیورسٹیوں میں تعلیم کے معیار کے حوالے سے مقابلے کی فضا بھی پیدا ہو گی۔

XS
SM
MD
LG