رسائی کے لنکس

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں وہ شخص ملوث ہوسکتا ہے جو اس لڑکی سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم لڑکی کے خاندان والے اس رشتہ پر رضامند نہیں تھے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راوالپنڈی میں دو نامعلوم افراد نے اسکول کی ایک طالبہ پر تیزاب پھینک کر اسے زخمی کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کا نشانے بنے والی لڑکی ایک مقامی اسکول میں دسویں جماعت کی طالبہ ہے اور بدھ کی صبح جب وہ اسکول جا رہی تھی تو موٹر سائیکل سوار دو افراد نے اسے راستے میں روکنے کے بعد اس پر تیزاب پھینک دیا جس سے اس کے دونوں ہاتھوں اور بازؤں پر زخم آئے۔

پولیس نے تیزاب حملے کا شکار ہونے والے لڑکی کی والدہ کی درخواست پر چار مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

راولپنڈی پولیس کے ڈپٹی سپرینٹنڈینٹ سلیم خٹک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس واقعہ میں مبینہ طور پر وہ شخص بھی ملوث ہے جو اس لڑکی سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم لڑکی کے خاندان والے اس رشتہ پر رضامند نہیں تھے۔

سلیم خٹک کا کہنا ہے کہ بظاہر اسی وجہ سے لڑکی پر تیزاب سے یہ حملہ کیا گیا۔

پاکستان میں عورتوں پر تیزاب پھینکنے اور نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اور ان واقعات میں زیادہ تر خواتین کو شادی سے انکار یا اپنی پسند کی شادی کرنے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صوبہ پنجاب کے کمیشن برائے حقوق نسواں کی چیئر پرسن فوزیہ وقار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس واقعے کو ایک گھناؤنا فعل ہے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نہ صرف قانون میں تبدیلی کی گئی ہے بلکہ پولیس سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان کے خلاف موثر کارروائی کرئے۔

"پنجاب حکومت نے قوانین منظور کیے تھے اور ضابطہ کار میں بھی تبدیلی لائی گئی تاکہ ایسے مقدمات کی تیزی سے سماعت ہو اور وہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں سنے جائیں."

انہوں نے کہا کہ تیزاب کے غلط استعمال کو روکنے لیے اس کی خرید و فروخت سے متعلق بھی ضابطہ کار وضح کیے گئے ہیں تاہم اس کے باوجود ان کے بقول ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے عورتوں سے متعلق منفی سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG