رسائی کے لنکس

لبلبے کے کینسر کی تشخیص کا ٹیسٹ ایجاد

  • جولی تابو

ریاست میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوان جیک اینڈریکا نے ایک ایسا آسان نسخہ بنایا ہے جس کی مدد سے لبلبے کے کینسر کی بروقت تشخیص کو ممکن بنایا جا سکے گا۔

گذشتہ برس دنیا بھر میں ڈھائی لاکھ افراد لبلبے کے کینسر کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔ جیک اینڈریکا ایک سولہ سالہ نوجوان ہیں جنہیں اس مرض کی سنگینی کا احساس اس وقت ہوا جب ان کے ایک عزیز اس مرض کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھے۔

ریاست میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوان جیک اینڈریکا نے ایک ایسا آسان نسخہ بنایا ہے جس کی مدد سے لبلبے کے کینسر کی بروقت تشخیص کو ممکن بنایا جا سکے گا۔

گذشتہ برس جیک کے ایجاد کردہ اس ٹیسٹ کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں سکول کی سطح پر سائنس اور سائنسی ایجادات سے متعلق سب سے بڑے مقابلے ’انٹل سائنس اینڈ انجینرنگ فئیر‘ میں گرینڈ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔ انہیں پچھتر ہزار ڈالر انعام میں ملے تھے۔

اس مقابلے میں ستر ممالک کے پندرہ سو طلباء نے شرکت کی تھی۔

گذشتہ برس ستمبر میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے جیک اینڈریکا کو ’کلنٹن گلوبل انیشی ایٹیو‘ میں مدعو کیا تھا۔

جیک اینڈریکا نے لبلبے کے کینسر کی تشخیص کے ٹیسٹ پر اس وقت کام کرنا شروع کیا جب انکے ایک قریبی عزیز اسی مرض کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں انٹرنیٹ پر گیا اور میں نے دیکھا کہ لبلبے کے کینسر کے 85٪ مریضوں میں اس مرض کی تشخیص بہت دیر بعد ہوتی ہے۔ عموما یہ تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب مریض کے بچنے کے امکانات محض دو فیصد رہ جاتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ ہمیں اس بارے میں کچھ کرنا چاہیئے۔‘‘

جیک اینڈریکا نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جو لوگ لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے خون میں پروٹین کی شرح زیادہ ہو جاتی ہے۔ جیک یہ بھی کہتے ہیں کہ جلد تشخیص سے ان مریضوں کی مدد ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

جیک اینڈریکا نے لبلبے کے کینسر کی تشخیص کا جو ٹیسٹ نکالا ہے وہ نوے فیصد درست نتائج دیتا ہے۔ جیک کہتے ہیں، ’’اس ٹیسٹ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں کینسر کی تشخیص کر دیتا ہے جس وقت اس مرض سے سو فیصد تک بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ’’اس ٹیسٹ کی قیمت محض تین سینٹ ہے اور یہ پانچ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے۔‘‘

جیک اینڈریکا کی یہ کامیابی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر انیبین مایترا کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ جو ان دو سو تحقیق دانوں میں سے واحد انسان تھے جنہوں نے جیک کے پروجیکٹ اور اس کی ای میلز کا جواب دیا تھا۔ ان کے الفاظ، ’’ماننا پڑے گا کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ ایک پندرہ سال کا بچہ مجھے یہ ای میل کر رہا تھا۔ مجھے اس بچے سے ملنے کا اشتیاق ہو گیا اور میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ بچہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ اسی لیے میں نے اسے انٹرویو کے لیے بلایا۔ اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔‘‘

پروفیسر مایترا نے جیک اینڈریکا کو اپنے لیب میں ایک جگہ دی جہاں پر سات ماہ تک جیک اپنے پروجیکٹ پر کام کرتے رہے۔ پروفیسر مایترا کہتے ہیں، ’’میرے خیال میں جیک کی اس کامیابی میں ایک بہت بڑا کردار اس کے والدین کی حوصلہ افزائی کا ہے۔‘‘

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG