رسائی کے لنکس

امریکی محکمہٴانصاف کا کہنا ہے کہ 17 برس کے علی شکری امین نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ داعش میں شمولیت کی غرض سے اِس سال کے اوائل میں اُنھوں نے ایک اور نوجوان امریکی کو شام جانے میں مدد فراہم کی تھی

ایک امریکی نوجوان نے عدالت کے روبرو اقبالِ جرم کیا ہے کہ اُنھوں نے داعش کے لیے لوگوں کی بھرتی اور رقوم اکٹھی کرنے میں شدت پسندوں کو مدد فراہم کی تھی۔

سترہ برس کے علی شکری امین نے جمعرات کے روز یہ بات تسلیم کی کہ وہ ایک غیر ملکی دہشت گرد گروپ کو مادی حمایت فراہم کرنے کی سازش میں ملوث تھے۔ عائد کردہ اِن الزامات میں 15 برس کی قید ہوسکتی ہے۔

امریکی محکمہٴانصاف کا کہنا ہے کہ امین نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ داعش میں شمولیت کی غرض سے اِس سال کے اوائل میں اُنھوں نے ایک اور نوجوان امریکی کو شام جانے میں مدد فراہم کی تھی۔

امریکی اٹارنی جنرل برائے قومی سلامتی، جان کارلن نے بتایا ہے کہ امین دولت اسلامیہ کے دہشت گرد گروپ کی جانب سے سماجی میڈیا کو استعمال کیا کرتا تھا۔

کارلن نے کہا ہے کہ اسلامی انتہا پسند ’دنیا کی دوسری پار‘ حلقہ اثر پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ نوجوانوں کو ’قدامت پسندی، بھرتی کرنے اور تشدد پر اکسانے‘ کا کام کیا جائے؛ اور اُنھوں نے والدین اور برادری کے لیڈران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی کوششوں کا مقابلہ کریں اور ایسے خطرات کا انسداد کریں۔

امین کے خلاف مقدمے میں پیش ہونے والے اٹارنی جنرل، دانا بونتے نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وفاقی حکام اُن افراد کے خلاف اقدام کریں گے جو دہشت گردوں کی حمایت میں سماجی میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ کام اُسی مستعدی اور توانائی سے کیا جائے گا، جس طرح ایسے امریکی عناصر کے خلاف کیا جاتا ہے جو داعش جیسے گروہوں کا ساتھ دینے کے لیے ملک کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران، امین کے خلاف دائر کردہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ امین نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اُنھوں نے ٹوئٹر کا استعمال کیا، جس میں داعش اور اُس کے حامیوں کو مشورہ دیا گیا یا حوصلہ افزائی کی گئی۔

اس نوجوان کا تعلق واشنگٹن سے باہر کے مضافاتی علاقے، مناسس سے ہے، جو ورجینا میں واقع ہے۔ اُنھوں نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ @Amreekiwitnessسے کھلو ہوا تھا۔

امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ملزم نے ایسی ہدایات جاری کیں جن میں ’بِٹ کوئن‘ کی’ ورچوئل کرنسی‘ استعمال کرنے کے لیے کہا گیا تھا، تاکہ داعش کو روانہ کی جانے والی رقوم کا پتا نہ لگایا جا سکے، اور اُن سرگرم کارکنوں کو پیسے بھیجے جاسکیں جو شام جانے کے خواہش مند ہیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ امین نے اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ اُنھوں نے جنوری 2015ء میں ورجینا ہی کے ایک اور نوجوان، رضا نیک نژاد کو داعش میں شمولیت کے لیے شام بھجوانے میں مدد فراہم کی۔ نیک نژاد کو اُنہی الزام کا سامنا ہے جو امین کے خلاف دائر ہیں۔ اُن پر ’بیرون ملک لوگوں کو ہلاک و زخمی کرنے کی سازش‘ میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔

XS
SM
MD
LG